1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

علاوی : حکومت سازی کے لئے مذاکراتی عمل کا اعلان

عراق کے پارلیمانی انتخابات میں فتح یاب ہونے والے اتحاد العراقیہ کے رہنما اور سابق وزیراعظم ایاد علاوی نے حکومت سازی کے لئے ممکنہ اتحادیوں سے بات چیت شروع کردی ہے۔

default

ایاد علاوی

ہفتے کے روز انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مرکز میں حکومت سازی کے لئے وہ بلا تخصیص تمام جماعتوں سے مذاکرات کریں گے۔ علاوی نے اپنے بیان میں کہا کہ عراق میں ایک مضبوط حکومت قائم کی جائے گی تاکہ عراقی عوام کے لئے بہتر خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ ملک میں امن و امان قائم کیا جاسکے۔ انہوں نے اپنے سب سے بڑے حریف نوری المالکی کے اتحاد سے بات چیت کے عمل کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعے کے روز جاری کردہ نتائج میں ایاد علاوی کی جماعت عراقیہ کو پارلیمان کی 325 نشستوں میں سے 91 نشستوں پر کامیابی ملی جبکہ ان کے قریب ترین حریف نوری المالکی کی جماعت سٹیٹ آف لا الائنس کو عراقیہ سے دو نشستیں کم یعنی 89 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ موجودہ وزیر اعظم نور المالکی نے انتخابی نتائج کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر انہوں نے ایسا کردیا تو یہ ایک لمبا عمل ہو گا جس سے کامیاب جماعتوں اور عوام کے اندر شکوک و شبہات جنم لے سکتے ہیں۔

ہفتے کے روز پریس کانفرنس کے دوران علاوی نے کہا کہ اب تک اتحادیوں کی تلاش کے لئے کوئی خاص مذاکراتی عمل شروع نہیں کیا گیا تھا، مگر اب اس کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا دائرہ کار تمام سیاسی قوتوں اور تمام جماعتوں تک وسیع ہوگا۔

Kombo Ayad Allawi und Nuri al-Maliki ***No Flash***

موجودہ اور سابقہ وزرائے اعظم

علاوی نے اپنی اس پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ عراق اپنی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز کر رہا ہے اور اب ایران، شام، سعودی عرب اور کویت سمیت تمام ہماسیہ ممالک سے بہتر تعلقات قائم کئے جائیں گے۔

ان انتخابات میں کسی بھی جماعت کو واضح کامیابی نہیں ملی ہے اس لئے دوسری جانب نوری المالکی بھی اتحادیوں کی تلاش کے لئے سرگرداں ہیں تاکہ ایک طرف تو علاوی کو حکومت سازی سے روکا جا سکے اور دوسرا کسی اتحاد کے ذریعے اپنی حکومت قائم کی جاسکے۔

پریس کانفرنس کے دوران ایاد علاوی نے رافع العیساوی کو مستقل قریب میں اپنے نائب وزیراعظم کے طور پر متعارف کرویا۔ العیساوی سنی العقیدہ لیڈر ہیں۔علاوی نے کہا کہ العیساوی اتحادیوں کی تلاش اور ان سے مذاکرات کی ذمہ داریاں بھی ادا کریں گے۔ انتخابات سے قبل علاوی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوگئے تو نوری المالکی کا ساتھ دینے والی کسی سیاسی قوت کو نئی حکومت کا حصہ نہیں بنائیں گے تاہم سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں انہیں پارلیمان میں برتری ثابت کرنے کے لئے بہت سی ایسی قوتوں کے ساتھ کی بھی ضرورت ہو گی، جنہیں وہ ماضی میں تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: عابد حسین

DW.COM