1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

علاقائی جنگجوؤں کو طرابلس چھوڑنے کا حکم

لیبیا کے نئی قیادت نے ملک کے دیگر حصوں سے تعلق رہنے والے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ طرابلس سے نکل جائیں اور اپنے گھروں کا رُخ کریں۔ یہ بات نگران وزیر داخلہ احمد داراد نے بتائی۔

default

احمد داراد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: ’’طرابلس آزاد ہے اور سب کو چاہیے کہ وہ یہ علاقہ چھوڑ دیں اور اپنے اپنے علاقوں کو چلے جائیں۔‘‘

داراد نے کہا کہ ہفتہ سے سکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد کام پر لوٹ آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب طرابلس کے انقلابی اپنے شہر کا دفاع کر سکتے ہیں۔

اس اقدام کا مقصد طرابلس اور دیگر علاقوں کی سکیورٹی فورسز کے درمیان ممکنہ تصادم سے بچنا بتایا جاتا ہے۔ طرابلس کی نئی عسکری کونسل کے سربراہ عبداللہ نقیر نے اے ایف پی کو بتایا: ’’طرابلس کے دفاع کی ذمہ داری طرابلس کے بیٹوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اُس کردار پر شکر گزار ہیں، جو مصراتہ اور دیگر علاقوں سے آنے والے جنگجوؤں نے ادا کیا ہے، لیکن اب انہیں اپنے گھروں کو چلے جانا چاہیے تاکہ طرابلس میں دستوں کی تشکیل کا کام مکمل کیا جا سکے۔

دارالحکومت کی کرائسس ٹیم کے رکن اور قومی عبوری کونسل (این ٹی سی) میں طرابلس کے نمائندے Abdurraham al-Keib کا کہنا ہے: ’’اس علاقے (طرابلس) اور لیبیا میں امن و امان کو یقینی بنانے کی کوششوں میں شرکت کے خواہش مند ہر فرد کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔‘‘

NO FLASH Libyen Tripolis unter Kontrolle der Aufständischen Freude Gaddafi Plakat

باغی گروپوں کے درمیان تعاون کا فروغ نئی قیادت کو درپیش اہم چیلنج ہے

تاہم انہوں نے کہا کہ این ٹی سی کسی ایسے گروہ کو تسلیم نہیں کرے گی، جو انفرادی حیثیت برقرار رکھنا چاہے، بلکہ اسے ایک عمل سے گزرنا ہو گا، جس کا مقصد تنازعات سے بچنا اور ہر گروہ کو پر امن لیبیا کی منصوبہ بندی میں شریک کرنا ہے۔

این ٹی سی کے سربراہ برائے عسکری امور عمر الحریری کا کہنا ہے کہ لیبیا کی قومی فوج کی تشکیل نو کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام باغی گروپوں کو اس میں شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ اختیارات کو مرکز تک محدود کرنا اور باغی گروپوں کے درمیان تعاون لیبیا کی نئی قیادت کو درپیش اہم چیلنجز میں سے ایک ہے۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM