’علاقائی اليکشن کا نتيجہ، ہسپانوی رياست کی شکست ہے‘ | حالات حاضرہ | DW | 22.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’علاقائی اليکشن کا نتيجہ، ہسپانوی رياست کی شکست ہے‘

اسپين کے خطے کاتالونيا ميں منعقدہ علاقائی انتخابات ميں عليحدگی پسند جماعتيں واضح اکثريت کے ساتھ کامياب رہيں۔ غير حتمی نتائج ميں البتہ سب سے زيادہ نشستيں ايک ايسی پارٹی نے جيتيں، جو خطےکی آزادی کے خلاف ہے۔

ہسپانوی خطے کاتالونيا ميں گزشتہ روز منعقدہ علاقائی انتخابات کے غير حتمی نتائج کے مطابق وہاں سرگرم عليحدگی پسند سياسی جماعتيں واضح اکثريت سے کامياب رہيں۔ 135 نشستوں والی علاقائی پارليمان ميں واضح اکثريت کے ليے اڑسٹھ نشستيں درکار ہوتی ہيں تاہم جمعرات کی شب نوے فيصد ووٹوں کی گنتی کے بعد اعلان کيا گيا کہ خطے کی عليحدگی کے ليے سرگرم تين مختلف گروپ، مجموعی طور پر ستر نشستوں پر کامياب ہو سکتے ہيں۔

اسپين کی وفاقی حکومت کی جانب سے برطرف کر ديے جانے والی کاتالونيا کی علاقائی پارليمان کے صدر کارلیس پوئجڈیمونٹ  نے بيلجيم کے دارالحکومت برسلز ميں اخباری نمائندوں سے بات چيت کرتے ہوئے کہا، ’’ہسپانوی رياست کو شکست دے دی گئی ہے۔‘‘ برسلز ميں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کیے ہوئے اس رہنما کے بقول ہسپانوی وزير اعظم ماريانو راخوئے اور ان کے ساتھی ہار گئے ہيں۔ علاقائی پارليمان کی جانب سے ممکنہ انتخاب پر وہ دوبارہ کاتالونيا جانے کے خواہشمند ہيں۔

کاتالونيا ميں علاقائی اليکشن کا انعقاد مرکزی حکومت کی جانب سے اکتوبر ميں اعلان کے بعد ہوا۔ يہ پيش رفت کاتالونيا ميں ايک متنازعہ ريفرنڈم کے بعد اسپين سے آزادی کے اعلان کے بعد سامنے آئی، جس سبب ميڈرڈ حکومت اور کاتالونيا کی علاقائی حکومت کے مابين سياسی تنازعہ جاری ہے۔

جمعرات کے روز ہونے والی رائے شماری ميں بائيں بازو کی آزادی پسند ای آر سی پارٹی بتيس نشستوں پر کامياب رہی، کيپيٹل نظام کے خلاف سرگرم سی يو پی چار نشستيں جيت پائی، وزير اعظم راخوئے کی پيپلز پارٹی صرف دو نشستوں پر کامیاب ہوئی جب کہ سيٹيزنر پارٹی جو کہ کاتالونيا کی آزادی کے خلاف ہے، چھتيس سيٹوں پر کاميابی سے ہمکنار رہی۔ تاحال يہ واضح نہيں کہ حکومت سازی کا اختيار کس جماعت کو ديا جائے گا۔

انتخابی عمل کی نگرانی اور کسی ناخوش گوار واقعے سے نمٹنے کے ليے ميڈرڈ حکومت نے سکيورٹی کے کافی سخت انتظامات کيے تھے۔ وزارت داخلہ کے مطابق رائے دہی کے عمل کے اوقات ميں پندرہ ہزار پوليس اہلکار تعينات کيے گئے تھے۔ اليکشن کے دن کسی ناخوش گوار واقعے کی کوئی رپورٹ موصول نہيں ہوئی۔