1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عظمیٰ بھارت پہنچ گئیں

بھارتی شہری عظمیٰ جس نے اپنے پاکستانی شوہر پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے عظمیٰ سے گن پوائنٹ پر زبردستی شادی کی ہے، آج بھارت پہنچ گئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس ہفتے بھارت کی خاتون ڈاکٹر عظمٰی کو بھارت واپس جانے کی اجازت دے دی تھی۔ مقدمے کی سماعت سننے والے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ طاہر علی سے امیگریشن فارم ملنے کے بعد ڈاکٹر عظمی بھارت واپس جا سکتی ہے۔ عظمی کے شوہر طاہر علی نے اپنی بیوی سے کچھ دیر ملنے کی در‌خواست کی تھی تاہم ڈاکٹر عظمی نے اُس سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

آج واہگہ بارڈر کے ذریعے  ڈاکٹر عظمیٰ بھارت پہنچی تھیں۔ بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے عظمیٰ کو بھارت میں خوش آمدید کیا۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،'' بھارت کی بیٹی خوش آمدید۔ جو تمہارے ساتھ ہوا مجھے اس پر افسوس ہے۔‘‘

واضح رہے کہ اطلاعات کے مطابق بھارتی خاتون ڈاکٹر عظمٰی اور پاکستانی شہری طاہر علی ملائیشیا میں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوئے تھے اور یکم مئی کو پاکستان پہنچنے کے بعد تین مئی کو دونوں نے نکاح کر لیا تھا۔

 یکم مئی کو براستہ واہگہ پاکستان آنے والی بھارتی خاتون ڈاکٹر عظمٰی کی پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلع بونیر کے رہائشی طاہر سے شادی کا معاملہ اس وقت پیچیدہ صورتِ حال اختیار کر گیا جب وہ مبینہ طور پر پانچ مئی کو اپنے شوہر طاہر علی کے ساتھ اسلام آباد میں قائم بھارتی سفارت خانے ویزا حاصل کرنے کی غرض سے گئیں لیکن اندر سے واپس باہر نہیں آئیں۔ اُس نے سفارت خانے میں پناہ حاصل کر لی تھی۔

 بعد ازاں ڈاکٹر عظمٰی کی جانب سے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ عظمٰی نے آٹھ مئی کو عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ طاہر اور اُس کے اہلِ خانہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔

 ڈاکٹر عظمٰی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ شادی کی غرض سے نہیں بلکہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے پاکستان آئی تھیں لیکن  اُنہیں بندوق کی نوک پر شادی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ بعد میں ایسی خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ عظمیٰ خود بھی طلاق یافتہ ہیں اور اُن کی ایک بچی بھی ہے۔ 

DW.COM