1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عظمٰی چاہے بھارت چلی جائے لیکن وہ میرے نکاح میں ہے، طاہر علی

بھارتی خاتون ڈاکٹر عظمٰی کو اسلام آباد  ہائی کورٹ نے بھارت واپس جانے کی اجازت دے دی ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ کی جانب سے اپنے شوہر اور پاکستانی شہری طاہر علی پر جبری شادی کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق ڈاکٹر عظمٰی کی جانب سے اُنکے شوہر طاہر علی پر دائر کردہ درخواست کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی۔ مقدمے کی سماعت سننے والے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ طاہر علی سے امیگریشن فارم ملنے کے بعد ڈاکٹر عظمی بھارت واپس جا سکتی ہے۔ عدالت نے طاہر علی کو عظمٰی کا امیگریشن فارم کل تک جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ 

عظمی کے شوہر طاہر علی نے اپنی بیوی سے کچھ دیر ملنے کی در‌خواست کی تاہم ڈاکٹر عظمی نے اُس سے ملنے سے انکار کر دیا۔

ڈاکٹر عظمٰی کے شوہر طاہر علی نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے بتایا ہے کہ قانوناﹰ عظمٰی کو پاکستان میں رہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا لہٰذا عدالتی فیصلے کے بعد وہ بھی اس کے پابند ہیں۔

 طاہر علی نے مزید کہا،’’ عظمٰی چاہے بھارت چلی جائے لیکن وہ اب بھی میرے نکاح میں ہے اور انشااللہ رہے گی۔ نہ وہ طلاق لینا چاہتی ہے اور نہ میں دینا چاہتا ہوں۔‘‘ طاہر علی کا کہنا تھا کہ جب اُن کی ملنے کی درخواست کو عظمی نے مسترد کیا تو وہ بہت اداس لگ رہی تھیں اور وہ کمرہ عدالت میں اچانک بے ہوش بھی ہو گئی تھیں۔

 علی کے مطابق اگر اُن کی بیوی ڈاکٹر عظمٰی نے خوشی سے یہ فیصلہ کیا ہوتا تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ طاہر علی نے ڈاکٹر عظمٰی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے حوالے سے ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’ وہ سب الزامات غلط تھے۔ میں نے شادی کی ویڈیو اور دیگر دستاویزات بطور ثبوت پیش کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عظمٰی نے مجھ سے جبراﹰ نہیں بلکہ اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔‘‘ طاہر علی نے کہا کہ لگتا ہے کہ عظمٰی پر یا تو اس کے گھر والوں یا پھر پاکستان میں بھارتی سفارت خانے کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اطلاعات کے مطابق بھارتی خاتون ڈاکٹر عظمٰی اور پاکستانی شہری طاہر علی ملائیشیا میں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے تھے اور یکم مئی کو پاکستان پہنچنے کے بعد تین مئی کو دونوں نے نکاح کر لیا تھا۔

 یکم مئی کو براستہ واہگہ پاکستان آنے والی بھارتی خاتون ڈاکٹر عظمٰی کی پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلع بونیر کے رہائشی طاہر سے شادی کا معاملہ اس وقت پیچیدہ صورتِ حال اختیار کر گیا جب وہ مبینہ طور پر پانچ مئی کو اپنے شوہر طاہر علی کے ساتھ اسلام آباد میں قائم بھارتی سفارت خانے ویزا حاصل کرنے کی غرض سے گئیں لیکن واپس نہیں آئیں۔

 بعد ازاں ڈاکٹر عظمٰی کی جانب سے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ عظمٰی نے آٹھ مئی کو عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ طاہر اور اُس کے اہلِ خانہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔

 ڈاکٹر عظمٰی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ شادی کی غرض سے نہیں بلکہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے پاکستان آئی تھیں لیکن  اُنہیں بندوق کی نوک پر شادی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ بعد میں ایسی خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ عظمیٰ خود بھی طلاق یافتہ ہیں اور اُن کی ایک بچی بھی ہے۔  

 

DW.COM