1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عسکریت پسند ابھی تک تربیتی مرکز پر قابض، چھ اہلکار ہلاک

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے چھ اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک فوجی افسر بھی شامل ہے۔

بھارتی پولیس کے مطابق گزشتہ روز یعنی ہفتہ 20 فروری کی شام باغیوں نے سری نگر کے نواح میں نیم فوجی دستوں کے ایک قافلے پر حملہ کر دیا تھا اور بعد ازاں ایک قریبی سرکاری عمارت میں مورچہ بند ہو گئے تھے۔ عسکریت پسند جب اس ٹریننگ انسٹیٹوٹ میں داخل ہوئے تو اس وقت وہاں 100 سے زائد افراد موجود تھے جن میں زیر تربیت اہلکار بھی شامل تھے۔

اس تربیتی مرکز سے باغیوں کو نکالنے کے لیے کی جانے والی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو سپاہی مارے گئے جبکہ کل رات کی فائرنگ میں زخمی ہونے والا ایک شہری بھی دم توڑ گیا ہے۔

آج اتوار کے روز ایک فوجی افسر سمیت ایلیٹ فورس کے تین فوجی آج فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھارت کی سنٹرل ریزرو پولیس فورس CRPF کے ترجمان بھاوِش چودھری کے حوالے سے بتایا ہے، ’’ہم ایک عسکریت پسند کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ چودھری کے مطابق حملہ آوروں کے خاتمے کے لیے آپریشن آج اتوار کی شام تک جاری تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھارتی کشمیر کے علاقے کے لیے انسپکٹر جنرل جاوید گیلانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی ممکنہ تعداد تین سے چار ہے۔ بھارتی فوج کے ترجمان این این جوشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ آج اتوار کے روز صبح کے وقت جب فوج نے تربیتی مرکز میں داخل ہونے کی کوشش کی تو عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک فوجی کیپٹن اور ایک فوجی ہلاک ہوئے۔

علیحدگی پسند بھارت سے علیحدگی کے لیے 1989ء سے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں

علیحدگی پسند بھارت سے علیحدگی کے لیے 1989ء سے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں

روئٹرز کے مطابق آپریشن کے مقام پر مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جبکہ ٹیلی وژن پر دکھائے جانے والے مناظر میں تربیتی مرکز کی پانچ منزلہ عمارت کی چھت سے دھواں نکلتا دیکھا جا سکتا ہے۔

متنازعہ علاقے جموں و کشمیر کے بھارتی زیر انتظام حصے میں مسلمان علیحدگی پسند بھارت سے علیحدگی کے لیے 1989ء سے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ بھارت اپنے ہمسایہ ملک پاکستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ اس کے زیر انتظام کشمیر میں لڑنے والے عسکریت پسندوں کو تربیت دے رہا ہے اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ تاہم پاکستان کی طرف سے اس طرح کے دعووں کی تردید کی جاتی ہے۔

بھارت اور پاکستان 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد مسلم اکثریت والے علاقے کشمیر پر اب تک تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ دونوں ممالک پورے کشمیر پر اپنا حق جتاتے ہیں جبکہ یہ خطہ دو حصوں میں تقسیم ہے۔