1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عسکریت پسندی کے خلاف چین کا علاقائی اتحاد

جنوبی اور وسطی ایشیا کے تین مسلم اکثریتی ممالک نے چین کے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس کا کام عسکریت پسندی سے نمٹنا ہے۔ چینی اقدامات خطے میں طویل عرصے سے امریکی غلبے کے لیے ایک چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔

پاکستانی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے فوجی رہنماؤں نے گزشتہ روز چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ میں اس چار رکنی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس چہار فریقی اتحاد کا مقصد ان ممالک کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانا ہے جبکہ انسداد دہشت گردی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے میں بھی اضافہ کر دیا جائے گا۔

پاکستان اور افغانستان امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ میں اس کے اتحادی ممالک ہیں اور یہ دونوں ملک خود بھی ایک عرصے دہشت گردانہ کارروائیوں سے متاثر چلے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب تاجکستان کو بھی عسکری گروپوں کی پرتشدد کارروائیوں کا سامنا ہے۔

چین بھی سنکیانگ کے علاقے میں ایغور نسل کے مسلمان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس عمل میں اسے پاکستان کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔ سنکیانگ کا علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال ہے اور یہ پاکستان کی سرحد سے بھی ملتا ہے۔

پاکستانی فوج کے ایک سابق جنرل اور سلامتی کے امور کے تجزیہ کار سید طلعت مسعود کا اس نئے اتحاد کے بارے میں کہنا تھا، ’’یہ وہ معاملہ ہے، جو ان تمام قوموں کو قریب لا سکتا ہے۔‘‘

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر ہوئی یے، جب پاکستانی فوج کے تعلقات اپنے اتحادی ملک امریکا کے ساتھ تناؤ کا شکار ہیں۔ آج جمعرات کے روز امریکا نے پاکستان کی تین سو ملین ڈالر کی فوجی امداد روک دینے کا اعلان بھی کر دیا، جس سے یہ مزید واضح ہوتا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن حکومتوں کے مابین دوریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب بیجنگ حکومت کی ان کوششوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ وہ کابل حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات میں زیادہ اہم اور براہ راست کردار ادا کرے۔

اس پیش رفت کے بارے میں طلعت مسعود کا کہنا تھا، ’’دنیا اسی طرح چلتی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات یقینی ہے کہ چینی خطے میں امریکی بالادستی کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں اور ان اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اب بعض حساس نوعیت کے معاملات تک بھی اپنی رسائی بڑھاتا جا رہا ہے۔