1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عسکریت پسندوں کے فضائی جائزے کے لیے گھروں کی چھتیں غائب

جنوبی وزیرستان کبھی پاکستانی طالبان کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ وہاں عسکریت پسند بلا خوف اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے تھے۔ اب پاکستانی فوج نے اس علاقے کو عسکریت پسندوں سے صاف کرتے ہوئے وہاں کے گھروں کی چھتوں کو بھی اڑا دیا گیا ہے۔

افغانستان سے متصل وفاق کے زیر انتظام پاکستانی قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان اب فوجی آپریشن کے سبب بے گھر ہو جانے والے ہزاروں خاندانوں کا استقبال کر رہا ہے تاکہ وہ واپس اپنے گھروں میں آکر آباد ہو سکیں تاہم سوال اب یہ ہے کہ کیا ان کے گھر رہنے کے قابل بچے ہیں؟ بے دخل ہونے والے یہ خاندان بغیر چھتوں کے گھروں میں کس طرح رہیں گے؟

ایک فوجی اہلکار جس نے میڈیا نمائندوں کے ہمراہ فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے رواں ماہ کے اوائل میں جنوبی وزیرستان کے قصبوں مکین، کانیگُرم اور لدھا کی فضائی حدود میں پرواز کی اور وہاں کے رہائشی مکانوں کا جائزہ لیا کا کہنا تھا کہ اس علاقے کے چند گھروں کو تو موسم کی خرابی کے سبب نقصان پہنچا ہے تاہم تمام گھروں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ موسم کی خرابی نہیں تھی۔

اس اہلکار کا مزید کہنا تھا، ’’فوج نے بہت سے گھروں کی چھتوں کو ہٹا دیا ہے تاکہ اُسے ان گھروں کا بہتر ’فضائی جائزہ‘ لینے میں آسانی ہو اورعسکریت پسندوں کو مٹی کے بنے ان قلعہ نما متروک گھروں میں پناہ لینے کا موقع نہ ملے۔‘‘

Flüchtende in Pakistan

جنوبی وزیرستان کی فضائی حدود کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے دورہ کرنے والے صحافیوں نے بہت سے ایسے گھر دیکھے جن کی چھتیں غائب تھیں تاہم بقیہ اعتبار سے وہ ٹھیک ہی حالت میں نظر آ رہے تھے۔ ان گھروں کے اندرونی مناظر نمایاں تھے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے گھروں کو فوجی آپریشن کے سبب نقصان پہنچا ہے اور کتنے گھر موسم کی خرابی کی زد میں آئے ہیں۔

پاکستانی فوج نے 2009ء میں تحریک طالبان پاکستان اور اُس وقت اس تحریک کے رہنما بیت اللہ محسود کے خلاف آپریشن ’راہ نجات‘ کیا تھا۔ فوجی ذرائع کے مطابق اُس آپریشن کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد خاندان اپنے گھر بار اور علاقوں سے بے دخل ہو گئے تھے۔

سات برس بعد ان خاندانوں کو واپس اپنے علاقوں اور گھروں کی طرف منتقل کرنے کا عمل شروع ہوا۔ رواں ماہ کے شروع میں شہر شھکائی میں صحافیوں کو ایک بریفنگ دیتے ہوئے اس علاقے کی ترقی اور تعمیر نو کے پراجیکٹس کی سربراہی کرنے والے کرنل محمد عمران نے کہا تھا کہ 2016ء کے اواخر تک مزید 30 ہزار خاندانوں کی اس علاقے میں واپسی متوقع ہے۔

Pakistan Armee Offensive gegen die Taliban

کرنل عمران کے بقول، ’’پاکستانی حکام نے جنوبی وزیرستان کے مختلف اضلاع اور دیہات میں سڑکوں، صحت کے مراکز اور اسکولوں کی تعمیر نو کا کام مکمل کر لیا ہے نیز ان علاقوں میں پانی کی فراہمی کو بھی ممکن بنا دیا ہے۔ کرنل عمران نے مزید کہا، ’’ہم اندرون ملک بے گھر ہونے اور نقل مکانی کرنے والے باشندوں کی اپنے گھروں کو واپسی سے پہلے انہیں تمام ترسہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

وزیرستان میں روایتی طور پر گھروں کی چھتیں لکڑی اور لوہے کی شیٹوں سے بنائی جاتی ہیں تاکہ انہیں موسم سرما میں برف باری کی شدت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اب ان گھروں کو اوپر سے بذریعہ ہیلی کاپٹر دیکھا جائے تو نیچے بغیر چھتوں کے سینکڑوں گھروں کا اندرونی منظر دیکھا جا سکتا ہے۔

ملتے جلتے مندرجات