1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ، تیونس کی نو خیز جمہوریت کا امتحان

دہشت گردی کا نشانہ بننے والے یورپی ممالک فرانس اور بیلجیم سمیت کئی دیگر ممالک کی طرح تیونس بھی ان کوششوں میں لگا ہوا ہے کہ وہ کیسے اپنی عوام کا تحفظ بھی یقینی بنائے مگر اس جنگ میں کسی کے انسانی حقوق بھی متاثر نہ ہوں۔

یہ معاملہ ایک ایسے ملک کے لیے اور بھی مشکل ہے جہاں کی سکیورٹی سروسز ایک ایسے ماضی سے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عبارت ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تیونس کے حوالے سے یہ خدشات موجود ہیں کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں یا ان کی تلاش کے دوران پولیس کے تشدد یا اس طرح کے دیگر حربوں سے انسانی حقوق متاثر ہوں گے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور وکلاء کے مطابق پولیس حراست کے دوران لوگوں سے زیادتی، ظلم اور تشدد کے ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں جو نسبتاﹰ اس نئی جمہوریت کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہیں۔

مشتبہ عسکریت پسندوں کا دفاع کرنے والے وکیل انور اولد علی کے بقول، ’’جب بات دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آتی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ حقوق پیچھے چلے جاتے ہیں۔‘‘

تیونس حکومت بھی یہی کہتی ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ حکومت کی طرف سے رواں برس اپریل میں ایک ایسا خود مختار کمیشن بھی بنایا گیا ہے جو تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کا ذمہ دار ہو گا۔ اس اقدام کی اقوام متحدہ کی طرف سے بھی تعریف کی گئی ہے۔

تیونس دہشت گردی کے خطرات کا شکار ہے، اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ چار ہزار سے زائد تیونسی شہری دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے عراق، شام اور لیبیا کا رُخ کر چکے ہیں۔

گزشتہ برس جون میں سُوس Sousse ہوٹل پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد سے ملکی سکیورٹی اداروں کو یہ اختیارات دے دیے گئے ہیں کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص کو گرفتار کر سکتے ہیں اور حراست میں رکھ سکتے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے ایک نئے قانون کے تحت مقدمہ قائم کرنے سے قبل کسی فرد کو 15 دنوں کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

تیونس کی فوج نے تو انسداد دہشت گردی کے شعبے میں اور خاص طور پر سرحدوں کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں اپنی کارکردگی بہتر کی ہے جس کی ایک وجہ مغربی اقوام کی طرف سے انہیں فراہم کی جانے والی تربیت بھی ہے۔ تاہم پولیس کا شعبہ اصلاحات کے حوالے سے پیچھے رہ گیا ہے اور حکومت سکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سابق صدر زین العابدین بِن علی کے دور کے سابق افسران کو ہی واپس لے آئی ہے اور ان کو ترقیاں بھی دی گئی ہیں۔

تیونس کے انسانی حقوق کے وزیر کامل جندوبی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک سکیورٹی اور انسانی حقوق کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم انہوں نے یہ بات تسلیم کی کہ اس سلسلے میں مشکلات کا سامنا ہے: ’’آپ کسی ایسے گروپ کے ساتھ کیسے لڑائی کریں گے جو چاہتا ہی موت ہے اور پھر آپ یہ کام کریں بھی حقوق کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے؟‘‘ جندوبی کہتے ہیں کہ ایک معاشرے کو خود اپنا دفاع کرنا ہوتا ہے، ’’جب ہم کسی کو گرفتار کرتے ہیں تو یہ بات مدنظر رہتی ہے کہ انسانی حقوق کا لحاظ رکھا جائے۔‘‘