1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عسکریت پسندوں کی مدد، امریکہ میں پاکستانی شہری کا اعتراف جرم

پیدائشی طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے جمعے کے روز ایک امریکی عدالت میں عسکریت پسندوں کی مدد سے متعلق اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی درستی کو تسلیم کر لیا۔

default

حافظ سعید احمد

واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں میں خبر ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ ملزم کا نام زبیر احمد ہے، اس کی عمر 24 برس ہے اور وہ امریکی ریاست ورجینیا کا رہنے والا ہے۔ جمعے کو اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کی عدالتی سماعت کے دوران زبیر احمد نے اعتراف کر لیا کہ اس نے ممنوعہ عسکریت پسند گروپ لشکر طیبہ کی ایک ایسی پروپیگنڈا ویڈیو تیار کر کے مدد کی تھی، جسے بعد میں اس نے انٹرنیٹ پر ریلیز بھی کر دیا تھا۔

امریکی محکمہء انصاف کے مطابق ملزم زبیر نے ورجینیا کی ایک وفاقی عدالت میں اپنے خلاف اس الزام کی درستی کو تسلیم کر لیا کہ اس نے لشکر طیبہ نامی شدت پسند گروپ کی عملی معاونت کی تھی۔

زبیر احمد کو سزا اگلے برس 13 اپریل کو سنائی جائے گی اور اگر اسے مجرم قرار دے دیا گیا تو اسے 15 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ خبر ایجنسی روئٹرز نے اپنے مراسلوں میں لکھا ہے کہ لشکر طیبہ ایک ایسا بھارت دشمن عسکریت پسند گروپ ہے، جس کے پاکستان کے اہم خفیہ اداروں کے ساتھ رابطوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس گروپ کو سن 2001 میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور گروپوں کی امریکی فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا۔

NO FLASH Anschläge Mumbai Indien 2008

لشکر طیبہ پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ سن 2008 میں بھارتی شہر ممبئی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں بھی اس کا ہاتھ تھا

اس گروپ پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ سن 2008 میں بھارتی شہر ممبئی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں بھی اس کا ہاتھ تھا۔ تین سال سے بھی زائد عرصہ قبل ہونے والے ان حملوں میں ممبئی میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں چھ امریکی شہری بھی شامل تھے۔

جمعے کے روز ورجینیا کی وفاقی عدالت میں کارروائی کے دوران زبیر احمد نے اعتراف کیا کہ اس نے لشکر طیبہ کے رہنما کے بیٹے طلحہ سعید کے ساتھ خط و کتابت کی تھی۔ اس پر طلحہ سعید نے زبیر احمد سے کہا تھا کہ اسے ایک ایسی ویڈیو بنانی چاہیے، جس میں اس کے والد حافظ سعید احمد کو بھی دکھایا گیا ہو اور جس میں کشمیر میں کیے گئے مسلح حملوں کے مناظر بھی شامل ہوں۔ اس پر زبیر احمد نے گزشتہ برس ستمبر میں یہ ویڈیو بنا کر ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر جاری کر دی تھی۔

امریکی دفتر استغاثہ کی طرف سے زبیر احمد کے خلاف اسی سال ستمبر میں جو عدالتی درخواست دائر کی گئی تھی، اس کے مطابق زبیر نے ایک کم عمر نوجوان کے طور پر سن 2004 میں لشکر طیبہ کے ایک تربیتی کیمپ میں شرکت بھی کی تھی۔ بعد میں اس ملزم نے لشکر طیبہ یا مختصراﹰ LeT کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے ایک کمانڈو کورس میں بھی شرکت کی تھی تاہم محض ایک ہفتے بعد ہی اس کی تربیت کرنے والے عسکریت پسند ٹرینر نے اسے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا تھا کہ تب وہ بہت کم عمر تھا۔

زبیر احمد سن 2007 میں اپنے چند اہل خانہ کے ہمراہ امریکہ میں داخل ہوا تھا۔ اس سال ستمبر میں اس کے خلاف الزامات عائد کیے جانے کے وقت استغاثہ کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ امریکی ادارے ایف بی آئی نے زبیر احمد کے بارے میں ان معلومات کے بعد خفیہ چھان بین شروع کر دی تھی کہ اس کا تعلق لشکر طیبہ سے ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس