1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عزير بلوچ کے انکشافات سياسی منظر نامے پر کيا اثرات چھوڑيں گے؟

پی آئی اے کی نجکاری کے معاملے پر کراچی میں گزشتہ دنوں ہونے والے پُر تشدد واقعے نے گینگ وار کے گرفتار سرغنہ اور اُن کے بيانات کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کا منظر نامہ تبدیل کر دیا ہے۔

اس وقت ذرائع ابلاغ کی تمام تر توجہ قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنيشنل ايئر لائنز (PIA) پر ہونے والی سیاسی پيش رفت پر مرکوز ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صورت حال کا براہ راست اثر سياسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پر ہوا ہے کيوں کہ گینگ وار کے گرفتار سرغنہ عزیر بلوچ کی گرفتار کے بعد جس انداز سے ملکی میڈیا نے پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیا، وہ سندھ کی حکمران جماعت کے ليے غیر متوقع بھی تھا اور جماعت اس کے ليے تیار بھی نہیں تھی۔

پاکستانی صحافی اشرف خان کہتے ہیں کہ اگر پی آئی اے کے دو ملازمین کی ہلاکت کا واقعہ رونما نہ ہوتا، تو شاید ٹيلی وژن چینلز مزید احتجاج کی خبریں نہ چلاتے۔ تاہم عزیر کی گرفتاری کے بعد میڈیا جو کچھ کر رہا تھا، اس سے یہ واضح ہے کہ پیپلز پارٹی صرف یہ کہہ کر عزیر کے معاملے سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی کہ اس کا پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔

خان کے مطابق پیپلز پارٹی کی لیاری گینگ وار سے وابستگی عزیر نہیں بلکہ اس کے باس رحمان ڈکیت سے تھی۔ 18 اکتوبر 2007 کو کراچی ميں کارساز کے مقام پر خودکش حملے کے بعد رحمان ڈکیت ہی سابق پاکستانی وزير اعظم اور پی پی پی کی رہنما بے نظیر بھٹو کو اپنی گاڑی میں بلاول ہاوس لے کر گیا تھا۔ مزيد يہ کہ عزير بلوچ کی پيپلز پارٹی کی چند انتہائی با اثر شخصیات بشمول فریال تالپور اور وزیر اعلٰی سندھ سے ملاقاتیں ریکارڈ پر ہیں۔ سن 2013 کے الیکشن سے قبل عزیر کی گرفتاری پر مقرر انعام کا نوٹیفیکیشن واپس لے لیا گيا تھا اور اس کے علاوہ اس کے نامزد کردہ امیدواروں کو انتخابات میں ٹکٹ دیے گئے تھے۔ يہ حقائق اس کے اور پیپلز پارٹی کے درمیان گہرے روابط کو ثابت کرنے کے ليے کافی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز نے 2 فروری کو کراچی ایئر پورٹ پر احتجاج کے دوران فائرنگ سے دو پی آئی اے ملازمین کے قتل کے معاملے کی تحقیقات کے ليے اعلٰی سطح کی کیمٹی قائم کر دی ہے۔ رینجرز ترجمان کے مطابق تحقیقات کا آغاز کر دیا گيا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں ٹی وی چینلز کی ریکارڈنگز سے احتجاجی مظاہرین کے درميان شر پسندوں کی موجودگی کے شواہد ملے ہيں اور متعلقہ ویڈیو کلپ بھی میڈیا کو جاری کر ديا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا پر گزشتہ دو روز سے ایئر پورٹ واقعے کی جو ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی تھیں، ان سے پی آئی اے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے الزام کو تقویت ملتی ہے کہ فائرنگ رینجرز کے اہلکاروں کی جانب سے کی گئی۔ پولیس پہلے سے کہہ چکی ہے کہ ہوائی اڈے پر تعینات اہلکاروں کے پاس بڑے ہتھیار نہیں تھے اور پولیس کے بیان کی تصدیق اس روز کی فوٹیجز سے ہوگئی ہے جبکہ چلائی جانے والی گولیاں بڑے خود کار ہتھیاروں کی تھیں، جن کے خالی خول پولیس کی تحویل میں ہیں۔ ويڈيو میں یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ رینجرز کے بڑے ہتھیاروں سے لیس اہلکاروں نے کس انداز میں پر امن مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی۔

بعد ازاں پولیس کی جانب سے مقتول ملازمین کے قتل کا مقدمہ درج کرنے سے انکار پر ملازمین کے عدالت سے رجوع کرنے کے معاملے کو اتنا بڑا کر دیا کہ ڈی جی رینجرز کو مجبوراً تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنا پڑی جبکہ رینجرز ترجمان تو واقعے کا الزام عائد ہونے سے قبل ہی کہہ چکے تھے کہ کسی رینجرز اہلکار نے گولی نہیں چلائی۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں رینجرز نے مظاہرین میں جو شر پسند تلاش کیا ہے وہ در اصل کوئی ایسا فرد ہوسکتا ہے جو آنسو گیس سے بچنے کے ليے چہرے پر رومال باندھے گھوم رہا ہو۔ تاہم فی الحال پیپلز پارٹی کی جان خلاسی ہوگئی ہے۔ عزیر نے اب تک کی تفتیش میں کچھ بھی بتایا ہو، اس سے میڈیا کو فی الحال سروکار نہیں اور پیپلز پارٹی کو مستقبل کی حکمت عملی کے ليے جو وقت درکار تھا، وہ شايد مل گیا ہے۔