عزم و ہمت کی اعلیٰ مثال منیبہ مزاری کے لیے نیا اعزاز | مقامی ہیروز | DW | 25.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مقامی ہیروز

عزم و ہمت کی اعلیٰ مثال منیبہ مزاری کے لیے نیا اعزاز

وہیل چیئر تک محدود منیبہ مزاری ایک مصورہ ، مقررہ اور ایک سماجی کارکن بھی ہیں۔ منیبہ مزاری کا نام فوربز میگزین کی سن 2016 کی 30 سال سے کم عمر اہم ترین شخصیات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

29 سالہ منیبہ مزاری، جو ایک پانچ سالہ بیٹے کی ماں بھی ہیں، نو برس قبل ایک ٹریفک حادثےکے باعث اپنی دونوں ٹانگوں کے استعمال کی قوت کھو بیٹھی تھیں۔ ریڑھ کی ہڈی میں لگنے والی چوٹ نے ان کی زندگی اور شخصیت کا رخ ہی تبدیل کر دیا۔ گو اس حادثے نے ان کو جسمانی طور پر تو زندگی بھر کے لیے وہیل چیئر کا محتاج کر دیا مگر ان کے حوصلے، ہمت اور کچھ کر جانے کے جذبے کو مزید مضبوط کر دیا۔ انہوں نے ہارنے اور حالات سے تنگ آنے کے بجائے ایک نئے سفر کا آغاز کیا اور اسی سفر کو اپنی زندگی کا مشن بھی بنا لیا۔ منیبہ نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ٹریفک حادثے کے بعد جب وہ علاج کے لیے اسپتال میں تھیں تو انہوں نے اس حادثے کے اثرات اور تکلیف سے اپنی توجہ ہٹانے کے لیے مصوری کا آغاز کیا۔

منیبہ کہتی ہیں کہ وہیل چیئر تک محدود رہتے ہوئے آزاد ذہن کے ساتھ پینٹ کرنا آسان نہیں، وہ جانتی تھیں کہ یہ وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے وہ ذہنی طور پر مضبوط ہو سکتی ہیں۔ منیبہ بتاتی ہیں کہ پیشہ ورانہ زندگی کے آغاز کے بعد وہ مالی اعتبار سے مستحکم تو ہوتی چلی گئیں مگر وہ ذہنی طور پو اطمینان محسوس نہیں کر پا رہی تھیں، کیونکہ وہ مستقل اس سوچ میں رہتی تھیں کہ کس طرح وہ کچھ ایسا کر سکیں، جو ملک اور اس کے عوام کے لیے بھی بہتری کی امید بنے۔

ان حالات میں پولیو مہم کے ایک اشتہار نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ منیبہ کے مطابق اس دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ لوگوں میں اس شعور کو بیدار کرنے کے لیے کام کریں گی کہ معذوری کا مطلب یہ نہیں کہ آپ قابل رحم ہیں۔ آپ معذوری کے باوجود دنیا کا کوئی بھی کام کر سکتے ہیں۔ اسی سوچ پر عمل کرتے ہوئے منیبہ نے وہ سب کچھ حاصل کیا جو معذوری کے شکار کسی بھی شخص کے لیے ایک مثال ہے۔

منیبہ نہ صرف پاکستان کی پہلی وہیل چیئر تک محدود ماڈل ہیں بلکہ معروف برانڈ باڈی شاپ کی برانڈ ایمبیسیڈر بھی ہیں۔ وہ گلوکاری بھی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک ایسے اسکول کے ساتھ بھی کام کر رہی ہیں، جو ضرورت مند بچوں کو تعلیم دیتا ہے۔ منیبہ کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عطیہ کرنے والے افراد کی توجہ اس اسکول کی جانب دلائیں تاکہ یہاں زیادہ سے زیادہ بچے داخلہ لے سکیں اور مفت تعلیم حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ بھی منیبہ کئی سماجی کاموں میں حصہ لیتی ہیں۔ منیبہ مزاری کا نام فوربز میگزین کی سن 2016 کی 30 سال سے کم عمر اہم ترین شخصیات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین نے گزشتہ برس دسمبر میں منیبہ کو خیر سگالی کی سفیر مقرر کیا۔ وہ پہلی پاکستان خاتون ہیں، جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر کی حیثیت سے اپنے کردار کے حوالے سے منیبہ کہتی ہیں، ’’اگر صنفی عدم مساوات کا خاتمہ کرنا ہے تو اس کے لیے مردوں اور عورتوں، دونوں کو آگاہی دینا ہو گی اور اس کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو با اختیار بنایا جائے کیونکہ ایک عورت کو با اختیار بنانے کا مطلب ہے، ایک پوری نسل کو با اختیار بنانا۔‘‘ بطور خیر سگالی کی سفیر، منیبہ پاکستان میں خواتین اور لڑکیوں کو خود مختار بنانے اور یو این ویمن کی مہم کے علاوہ خواتین کی دیگر مہمات کے لیے کام کریں گی۔

معذوری کو اپنی طاقت ثابت کرنے اور اپنے جیسے لوگوں کو امید دلانے کی ان کوششوں کا اعتراف صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔ اس کا ثبوت ایک برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے منیبہ مزاری کو سن 2015ء میں ان ایک سو خواتین کی فہرست میں شامل کرنا ہے جو اپنی ہمت اور لگن سے دوسروں کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہیں۔