1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عزت کے نام پر قتل: چیچنیا میں ہم جنس پرست مرد فرار پر مجبور

روسی جمہوریہ چیچنیا میں بہت سے ہم جنس پرست مرد تعاقب اور عزت کے نام پر اپنے قتل کے خوف کے باعث وہاں سے فرار ہو رہے ہیں۔ چیچنیا میں حال ہی میں سو سے زائد ہم جنس پرست مردوں کو گرفتار کر کے ان پر تشدد بھی کیا گیا تھا۔

روس میں ماسکو اور چیچنیا میں گروزنی سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ابھی حال ہی میں یہ میڈیا رپورٹیں وسیع تر تشویش کا سبب بنی تھیں کہ قفقاذ کی روسی جمہوریہ چیچنیا میں، جہاں کی آبادی اکثریتی طور پر مسلمان ہے، 100 سے زائد مردوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور بعد میں انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

روس میں ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم ’روسی ایل جی بی ٹی نیٹ ورک‘ کے مطابق چیچنیا میں ایسے افراد کی گرفتاریوں کی حالیہ لہر کے بعد وہاں سے اس نیٹ ورک کی مدد سے درجنوں ہم جنس پرست مرد فرار ہو چکے ہیں، جو اپنے واپس جانے کے تصور سے ہی بری طرح خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔

روسی LGBT نیٹ ورک کی ایک مرکزی عہدیدار تاتیانا وِنّیچینکو نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایسے بہت سے ہم جنس پرست مردوں کے لیے ان کا تعاقب کیا جانا ایک قطعی غیر متوقع عمل تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ان ہم جنس پرست چیچن مردوں کو یکدم چیچنیا سے نکلنا پڑا۔ ان کے پاس اب کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

LGBT-Aktivisten sammeln sich vor der russischen Botschaft (picture alliance/ZUMAPRESS/J. Scheunert)

روس میں ہم جنس پرست افراد پر تشدد کے خلاف برلن میں روسی سفارت خانے کے سامنے ایک احتجاجی مطاہرے کے شرکاء

تاتیانا وِنّیچینکو کے مطابق ان ہم جنس پرست چیچن مردوں کے پاس، جو اب قفقاذ کی اس روسی جمہوریہ سے فرار ہو چکے ہیں، نہ تو کوئی رقوم ہیں، نہ ہی کوئی ملازمتیں اور انہیں اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنے اہل خانہ کے علاوہ جلدی میں ذاتی نوعیت کی تمام سرکاری شناختی اور تعلیمی دستاویزات بھی پیچھے ہی چھوڑ دینا پڑیں۔

Tschetschenien Ramsan Kadyrow Präsident (Getty Images/AFP/Y. Fitkulina)

چیچن صدر رمضان قدیروف کے مطابق چیچنیہ میں ہم جنس پرست شہریوں کو تعاقب اور امتیازی رویوں کا سامنا نہیں ہے

وِنّیچینکو نے، جو روسی ایل جی بی ٹی نیٹ ورک کی سربراہ ہیں، بتایا کہ پیر سترہ اپریل تک چیچنیا کے ایسے 59 ہم جنس پرست مرد ان کی تنظیم سے رابطے کر کے مدد کی درخواست کر چکے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’ان مردوں کو روس کے جنوبی حصے میں واقع جمہوریہ چیچنیا کو اس لیے چھوڑنا پڑا کہ انہیں اپنے جنسی رجحانات کے باعث زیر عتاب آنے کا شدید خدشہ تھا۔‘‘

روسی جریدے ’نووایا گیزیٹا‘ کے مطابق قریب دو ہفتے قبل چیچنیا میں سو سے زائد ایسے مردوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا جو ہم جنس پرست تھے۔ ان میں سے تین کو قتل بھی کر دیا گیا تھا۔ ان گرفتار شدگان پر پولیس کی حراست میں شدید تشدد کیا گیا تھا اور انہیں بجلی کے جھٹکے تک بھی لگائے گئے تھے۔

ہم جنس پرست افراد کے روسی نیٹ ورک کے مطابق ان چیچن مردوں کو خوف ہے کہ اگر وہ واپس چیچنیا گئے تو انہیں نہ صرف حکام کی طرف سے گرفتاریوں، تشدد اور تعاقب کا نشانہ بنایا جائے گا بلکہ یہ خوف بھی ہے کہ چیچن معاشرے میں ہم جنس پرستی، خاص طور پر ہم جنس پرست مردوں کے بارے میں پائی جانے والی شدید طور پر منفی سوچ کی وجہ سے انہیں عزت اور غیرت کے نام پر قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔