1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب مہاجرین کے لیے سعودی عرب میں پناہ کیوں نہیں؟

سعودی عرب مہاجرین کی امداد کرنے والے دنیا کے بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے، تاہم یہ ملک عرب مہاجرین کو بھی اپنے ہاں سیاسی پناہ دینے کو تیار نہیں ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کی تاریخ اس عرب ریاست کے قیام کے وقت سے جاری ہے۔ سعودی عرب کے بانی عبدالعزیز بن عبدالرحمان السعود نے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا۔

مسلمانوں کے لیے ایک اہم ملک ہونے کے باعث سعودی عرب نے مذہبی اہمیت کے مہینے رمضان میں لبنان میں پناہ لیے ہوئے شامی مہاجرین کے لیے تین ملین امریکی ڈالرز کے برابر امداد بھیجی تاکہ مہاجرین کے لیے سحری اور افطاری کا بندوبست کیا جا سکے۔

صرف یہی نہیں بلکہ سعودی عرب کی طرف سے شامی شہریوں کو امدادی کی فراہمی کے لیے ڈونرز کانفرنسوں کے دوران امداد دی جاتی رہی ہے۔ جنوری 2013ء میں 213 ملین ڈالرز جبکہ 2014ء میں یہ امداد بڑھا کر 775 ملین امریکی ڈالرز کر دی گئی مگر اس میں شامی مہاجرین کے علاوہ دیگر ملکوں کے لیے بھی امداد شامل تھی۔

لیکن جب بات آتی ہے شام میں خانہ جنگی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی تو اس حوالے سے سعودی عرب کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ شامی متاثرین خانہ جنگی سے بچنے کے لیے یورپ کا خطرناک سفر تو اختیار کر رہے ہیں مگر مذہبی اور لسانی طور پر قریب ترین ملک سعودی عرب ان کو پناہ دینے کو تیار نہیں ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اس بات کو گزشتہ برس ہی تنقید کا نشانہ بنا چکی ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق شامی مہاجرین کو پناہ دینے کے حوالے سے خلیجی ریاستوں کا رویہ شرمناک ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق، ’’مذہبی اور لسانی بندھن کے باعث خلیجی ریاستوں کو ایسے لوگوں کو پناہ دینے میں سب سے آگے ہونا چاہیے جو شام میں تشدد اور جنگ کے باعث گھر بار چھوڑ رہے ہیں۔‘‘

ایمنسٹی کے مطابق شامی مہاجرین کو پناہ دینے کے حوالے سے خلیجی ریاستوں کا رویہ شرمناک ہے

ایمنسٹی کے مطابق شامی مہاجرین کو پناہ دینے کے حوالے سے خلیجی ریاستوں کا رویہ شرمناک ہے

ڈوئچے ویلے کی تبصرہ نگار کرسٹین کنِپ کے مطابق شامی مہاجرین کو ملک میں پناہ نہ فراہم کرنے کی ایک وجہ خلیجی ممالک میں پہلے ہی سے ایسے غیر ملکی ورکرز کی ایک بڑی تعداد ہے جو وہاں قانونی طور پر رہائش رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کی کُل 29 ملین آبادی میں سے چھ ملین غیر ملکی ہیں۔ ایسے میں اگر شامی مہاجرین کو بھی ملک میں پناہ دے دی گئی تو غیر ملکیوں کی تعداد مقامی آبادی سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

کرسٹین کنِپ کے مطابق ایک اور وجہ عرب اسپرنگ کے باعث سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے رہنماؤں میں پیدا ہونے والے خدشات بھی ہیں۔ 2011ء میں مصر، تیونس، یمن اور بعض دیگر عرب ممالک میں عوام کی طرف سے آمرانہ حکومتوں کے خاتمے لیے چلائی جانے والی تحریکوں کو عرب اسپرنگ کا نام دیا گیا تھا۔

شام میں خانہ جنگی کا آغاز بھی دراصل اسی طرح کی ہی ایک تحریک کے آغاز سے ہوا تھا لہذا سعودی حکمرانوں سمیت دیگر خلیجی ممالک کے رہنماؤں کے لیے یہ خدشات اہم ہیں کہ شامی مہاجرین کو ملک میں پناہ دینے کی صورت میں وہ اسی طرح کی کوئی تحریک شروع کر سکتے ہیں جو ان کے اقتدار اور ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔