1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب ممالک قطر کے ساتھ اپنا تنازعہ حل کریں، امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے عرب ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلیجی ریاست قطر کے ساتھ اپنا تنازعہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ امریکی وزیر کے مطابق ایک مثبت قدم ان تمام ممالک کا مل بیٹھ کر بات چیت کرنا ہو گا۔

default

سعودی عرب اور قطر کے درمیانی ایک زمینی سرحدی گزرگاہ جو بند پڑی ہے

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے اتوار پچیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق جن چار عرب ممالک نے، جن میں سے تین خلیجی عرب ریاستیں ہیں، خلیج فارس کی چھوٹی سی ریاست قطر کا بائیکاٹ کر رکھا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ قطری حکومت کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔

Katar Emir Scheich Tamim bin Hamad Al-Thani

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی

ریکس ٹلرسن نے اپنے ایک بیان میں اتوار کے روز کہا، ’’ان ریاستوں کو سفارت کاری کے ذریعے آپس کے تنازعے میں کسی تعمیری حل تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہیے۔‘‘

امریکی وزیر نے اپنے بیان میں کہا، ’’اس تنازعے میں اگلا ایک مثبت قدم یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ممالک مل کر بیٹھیں اور ایک دوسرے سے بات چیت شروع کر یں۔‘‘

ساتھ ہی ٹلرسن نے خلیج کے خطے میں پائی جانے والی موجودہ بحرانی صورت حال اور امریکی خارجہ سیاسی ترجیحات کے حوالے سے کہا، ’’ہمیں یقین ہے کہ ہمارے پارٹنر اور اتحادی اس وقت زیادہ مضبوط ہوتے ہیں، جب وہ کسی ایک متفقہ مقصد کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ ہم سب کا اس حقیقت پر بھی اتفاق ہے کہ ہمارا مشترکہ مقصد دہشت گردی اور شدت پسندی کو روکنا ہے۔‘‘

قطر کو دیا گیا الٹیمیٹم انٹرنیشنل قانون کے منافی ہے، ایردوآن

قطری تنازعہ، خیلجی ممالک نے شرائط نامہ پیش کر دیا

یورپی حمایت سے خلیجی بحران حل ہو جائے گا، قطری سفیر

امریکی وزیر خارجہ نے عرب ممالک میں پائے جانے والے داخلی تنازعے کے حوالے سے اپنا یہ بیان اس پس منظر میں دیا کہ خلیج کے خطے میں سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات اور شمالی افریقہ میں مصر نے گزشتہ کئی ہفتوں سے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا کر اس کے ساتھ جملہ سفارتی تعلقات منقطع کر رکھے ہیں اور ساتھ ہی قطر کی زمینی، فضائی اور سمندری ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔

USA Rex Tillerson

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن

ان چار ممالک نے ابھی حال ہی میں قطر کو اپنی 13 شرائط کی ایک ایسی فہرست بھی بھیجی تھی، جس پر ان ممالک کے مطابق دوحہ حکومت کو عمل کرنا چاہیے، تاکہ قطر کی وہ ’دو عشرے پرانی مداخلت پسندانہ خارجہ سیاست‘ ختم کی جا سکے، جس نے بظاہر ان عرب ریاستوں کو ناراض کر رکھا ہے۔

کویت، جو خود بھی قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب کی طرح عرب ریاستوں کی خلیجی تعاون کونسل یا جی سی سی کا ایک رکن ملک ہے، اس تنازعے میں ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔

اس تناظر میں امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن نے کہا، ’’اس تنازعے میں جذباتی بیان بازی میں کمی سے بھی کشیدگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ امریکا اس تنازعے کے فریق تمام ممالک کے ساتھ آئندہ بھی قریبی رابطے میں رہے گا۔

DW.COM