1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب ممالک قطر کی ناکہ بندی ختم کریں، جرمنی کا مطالبہ

وفاقی جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے مطالبہ کیا ہے کہ عرب ریاستیں قطر کی زمینی، فضائی اور سمندری ناکہ بندی ختم کریں۔ گابریئل نے قطری ہم منصب کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد کہا کہ قطر کے بحران کو سفارت کاری سے حل کیا جائے۔

Karte Countries that severed ties with Qatar ENG

قطر کے ساتھ روابط منقطع کرنے والے ممالک

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق جرمن وزیر خارجہ نے اپنے قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کے ساتھ جرمن شہر وولفن بیوٹل میں ایک ملاقات کے بعد جمعہ نو جون کے روز کہا کہ قطر کے ہمسایہ ملکوں سمیت متعدد عرب اور غیر عرب ممالک نے اس خلیجی ریاست کی رواں ہفتے کے آغاز سے جو ناکہ بندی کر رکھی ہے، وہ ختم ہونا چاہیے اور فریقین کو اس بحران پر آپس میں مذاکرات کے ذریعے قابو پانا چاہیے۔

قطر ایران سے دوری اختیار کرے، بحرین کا مطالبہ

کئی خلیجی ریاستیں ناراض مگر کویتی امیر قطر پہنچ گئے

’ترکی قطر کے ساتھ کھڑا ہے‘، انقرہ حکومت

زیگمار گابریئل نے شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا، ’’ہمیں یقین ہے کہ یہی سفارت کاری کا وقت ہے۔ ہمیں لازمی طور پر ایک دوسرے سے بات کرنا چاہیے۔ اپنے امریکی ساتھیوں کے ساتھ اور خاص طور پر خلیج کے خطے میں اپنے عرب ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہمیں اس مسئلے کا کوئی حل نکالنا چاہیے۔ اس کے علاوہ قطر کے خلاف عائد کردہ سمندری اور فضائی پابندیاں بھی فوراﹰ اٹھائی جانا چاہییں۔‘‘

اپنے قطری ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ قطر پر عائد کردہ پابندیوں سے جرمن معیشت بھی متاثر ہو گی۔

Wolfenbüttel Bundesaußenminister Sigmar Gabriel trifft den katarischen Außenminister Scheich Mohammed Al Thani (Imago/photothek/T. Koehler)

قطری وزیر خارجہ، دائیں، اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ

اس موقع پر قطری وزیر خارجہ الثانی نے کہا کہ متعدد عرب ممالک نے قطر کے خلاف جو پابندیاں عائد کی ہیں، وہ بین الاقوامی قانون کے سراسر منافی ہیں اور ایک ایسی کوشش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد بین الاقوامی برادری کی رائے کو قطر کے خلاف کرنا ہے۔

خلیج کے علاقے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے علاوہ شمالی افریقہ میں مصر نے بھی اسی ہفتے پیر کے روز قطر کے ساتھ اپنے جملہ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہی ممالک نے، جن میں سے متعدد خلیجی تعاون کی کونسل کے رکن بھی ہیں، قطر کے ساتھ اپنی زمینی، فضائی اور سمندری سرحدیں بھی بند کر دی تھیں۔

قطر کے حق میں بولنے والے اماراتی شہریوں پر پابندی

سعودی عرب کے دورے کے اثرات سامنے آنے لگے ہیں، امریکی صدر

قطر کا سفارتی بحران، معاملہ حل کیسے ہو گا؟

اس کے علاوہ پابندیاں لگانے والے ممالک نے قطر میں اپنے شہریوں کو یہ ملک چھوڑ دینے کے لیے کہتے ہوئے اپنے ہاں مقیم  قطری باشندوں کو بھی یہ حکم دے دیا تھا کہ وہ ان خلیجی ریاستوں سے واپس اپنے وطن چلے جائیں۔

ان عرب ممالک کا الزام ہے کہ قطر کے خلاف ان اقدامات کی وجہ دوحہ حکومت کی طرف سے دہشت گردی کی مبینہ حمایت بنی جبکہ قطر اپنے خلاف ایسے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

Katar Doha Qatar Airlines beim Start (picture-alliance/dpa)

قطر ایئرویز کے مسافر طیاروں کو پابندیاں عائد کرنے والے ممالک کی حدود سے گزرنے سے منع کیا جا چکا ہے

دہشت گردی کی وجہ سے پابندیوں کی فہرست

قطر میں دوحہ سے ملنے والی دیگر رپورٹوں کے مطابق قطر پر پابندیاں لگانے والے عرب ممالک نے جمعہ نو جون کے روز یہ اعلان بھی کیا کہ انہوں نے 12 مختلف تنظیموں اور 59 افراد کے ناموں کو قطر کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے دہشت گردی کے باعث پابندیوں کی ایک مشترکہ فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

دوحہ حکومت نے اپنے خلاف عائد کردہ دہشت گردی کے الزامات کی طرح سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے 70 سے زائد تنظیموں اور افراد کے ناموں سے متعلق آج کے نئے اعلان کو بھی مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ قطر کے خلاف یہ جملہ الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات