1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب مبصرین آج شام پہنچ رہے ہیں

شام میں سکیورٹی کریک ڈاؤن کے تناظر میں عرب لیگ کے مبصرین کا مشن آج دمشق پہنچ رہا ہے۔ اس دوران سکیورٹی کا کریک ڈاؤن بھی بدستور جاری ہے اور ایک ہی گاؤں میں درجنوں ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔

default

شام جانے والے عرب مبصرین کے ارکان کی تعداد تیس سے پچاس کے درمیان ہے، جن کے ساتھ انتظامی اور سکیورٹی عملہ بھی ہے۔

مبصرین کے اس وفد کی قیادت عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی کے نائب سمیر سیف الیزل کر رہے ہیں۔ شام میں اپوزیشن نے دمشق حکومت کی جانب سے عرب لیگ کے مبصرین کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کو ڈھونگ قرار دیا ہے۔ تاہم دمشق حکام نے یہ الزام مسترد کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے: ’’اس مشن کو کامیاب ہوتے دیکھنا ہمارے اپنے مفاد ہے کیونکہ یہ (مشن) زمینی حقائق کی چھان بین کرنا چاہتا ہے اور اسے احساس ہو جائے گا کہ حالات سیاہ یا سفید نہیں ہیں، بلکہ بہت زیادہ پیچیدہ ہیں۔‘‘

شام کی جانب سے عرب مبصرین کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دینے پر فریقین کے درمیان معاہدہ پیر کو طے پایا تھا۔ گزشتہ ماہ بھی شام نے عرب لیگ کے ایک منصوبے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس کے نفاذ پر پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔ اس وقت شام نے اس مقصد کے لیے شرائط بھی رکھ دی تھیں، جنہیں عرب لیگ نے مسترد کر دیا تھا۔

دوسری جانب شام میں حکومت مخالفین کا کہنا ہے کہ عوام کے خلاف سکیورٹی کا کریک ڈاؤن انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ایسی تازہ کارروائی میں فوج نے ایک سو سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا ہے، جو منگل کو ادلیب کے علاقے جبل الزاویہ میں کی گئی۔

ABC Interview mit Baschar al-Assad 2011 BILDAUSSCHNITT

شام کے صدر بشارالاسد

خبر رساں ادارے اے پی نے اپوزیشن کارکنوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوج نے ملک کے شمال مغربی علاقے میں ایک گاؤں پر چڑھائی کر دی۔ اس پر خوفزدہ لوگ پناہ کے لیے ایک وادی میں جا چھپے۔

انہوں نے بتایا کہ فوج نے اس وادی کو گھیر لیا، جس کے بعد اس پر راکٹوں اور بموں سے حملہ کر دیا۔ یہ سلسلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا، جس کے نتیجے میں وادی میں چھپے لوگوں میں کوئی نہیں بچا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے۔ ان کارکنوں نے منگل کی اس کارروائی کو ’منظم قتل عام‘ قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس حملے نے واشنگٹن انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ فرانس نے بھی اس کی مذمت کی ہے جبکہ عرب لیگ نے شام کے صدر بشار الاسد پر زور دیا ہے کہ اپنے شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری نبھائیں۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس