1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب لیگ کے مبصرین کا شام کے مختلف علاقوں کا دورہ

شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے کے لیے آئے ہوئے عرب لیگ کے مبصر مشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ مبصرین جمعرات کو مزید تین پرآشوب علاقوں کا دورہ کریں گے۔ مبصرین سب سے پہلے حمص کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

default

مبصرین وفد کے سربراہ سوڈان کے جنرل مصطفٰی الدابی

عرب لیگ کے مبصرین کی آمد شامی حکومت کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کا حصہ ہے۔ اس معاہدے پر دو نومبر کو دستخط کیے گئے تھے اور اس میں شامی حکومت پر شہروں اور رہائشی اضلاع سے فوج ہٹانے، شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن بند کرنے اور تمام قیدیوں کو رہا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد المقدیسی کے بقول مبصرین کو نقل و حرکت کی آزادی ہے۔

Die zehn gefährlichsten Regionen für Reporter

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مظاہرے مارچ سے جاری ہیں

مبصرین کے وفد کے سربراہ سوڈانی جنرل مصطفٰی الدابی نے بدھ کو روئٹرز کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ حمص کے دورے کے دوران کوئی خوفزدہ کرنے والی صورت حال نظر نہیں آئی۔ انہوں نے کہا، ’’اپنے دورے کے دوران ہم نے ایسی جگہیں دیکھیں جن کی حالت ٹھیک نہیں تھی مگر کم از کم ابھی تک ہمیں کوئی بہت خوفناک صورت حال نظر نہیں آئی۔ حالات پرسکون ہیں اور ہمارے سامنے کوئی جھڑپیں نہیں ہوئیں۔‘‘ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی بہت سے علاقوں کا جائزہ لیا جانا باقی ہے۔

انسانی حقوق کے نگران ادارے ہیومن رائٹس واچ نے شامی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے عرب لیگ کے مبصر مشن کی آمد سے قبل سینکڑوں افراد کو چھپا دیا ہے۔ نیو یارک میں قائم ادارے نے حمص کے ایک سکیورٹی عہدیدار کا حوالہ دیا جس نے کہا تھا کہ اسے زیر حراست افراد کو دیگر مقام پر منتقل کرنے کا حکم ملا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان کے مطابق ’اس شخص نے بتایا کہ اکیس اور بائیس دسمبر کو لگ بھگ 400 سے 600 افراد کو دیگر حراستی مراکز میں منتقل کیا گیا۔‘‘

Syrien / Assad / Demonstration

ہیومن رائٹس واچ نے شامی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے سینکڑوں زیر حراست افراد کو چھپا دیا ہے

ادارے کی مشرق وسطٰی سے متعلق ڈائریکٹر سارہ لی وہٹسن نے کہا، ’’شام کی اس چال کے باعث عرب لیگ کے لیے ضروری ہے کہ وہ زیر حراست افراد تک رسائی کی واضح حدود متعین کرے۔‘‘

ایک نئی پیشرفت میں دمشق حکومت نے مظاہروں کے الزام میں بند 755 افراد کو جیلوں سے رہا کر دیا ہے۔ یہ بات شام کے سرکاری ٹی وی کی خبر میں بتائی گئی۔ اس سے قبل شامی حکومت نے نومبر میں ایک ہزار ایک سو اسی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا تھا۔

ادھر جنوبی صوبے درعا میں منحرف فوجیوں نے گھات لگا کر کیے گئے ایک حملے میں سرکاری فوج کے چار اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM