1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب لیگ کے مبصرین حمص شہر میں

شام میں نو ماہ سے جاری حکومت مخالف تحریک کا جائزہ لینے والے عرب مبصرین گزشتہ شام دمشق پہنچے تھے۔ آج منگل کے روز مبصرین کی ایک ٹیم نے وسطی شامی شہر حمص کا دورہ کیا۔

منگل کے روز عرب لیگ کے مبصرین نے مختلف مقامات کا دورہ کیا۔ وہ کل بھی حمص شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کریں گے۔ اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ مبصرین کی ملاقات خالدیہ کے مظاہرین سے ہو سکی ہے یا نہیں۔ حمص پہنچ کر مبصرین نے حمص کے صوبائی گورنر سے بھی ملاقات کی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق گورنر غسان عبدالعلی کے ساتھ بات چیت میں مبصرین نے سلامتی کی صورت حال کو موضوع بنایا۔ مبصرین جب حمص پہنچنے تو اس پریشان حال شہر کے ایک حصے خالدیہ کے 20 ہزار سے زائد افراد مظاہرین کے طور پر وہاں موجود تھے۔ ان لوگوں نے وسط شہر میں دھرنا دے رکھا تھا۔ اس مظاہرے کے شرکاء پرزور انداز میں حکومتی ایکشن کی مذمت کر رہے تھے۔ مظاہرین اسد حکومت کے خلاف بھی نعرے بازی میں مصروف تھے۔ شام کے تیسرے بڑے شہر حمص کو چار انتظامی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک خالدیہ ہے اور دوسرا باب امر ہے، جہاں سکیورٹی فورسز نے کریک ڈاؤن کے سلسلے میں ٹینک تعینات کر رکھے تھے۔

Syrien Demonstration in Homs Demonstranten rufen nach Hilfe von der UN

شام میں حکومت مخالف تحریک میں حمص شہر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے

حمص شہر کے علاوہ مبصرین ادلیب بھی جائیں گے۔ بشار الاسد کے خلاف جاری جمہوریت نوازوں کی تحریک میں حمص اور اِدلِب کے شہر مرکزی حیثیت کے حامل ہیں۔ مبصرین کے حمص شہر پہنچنے سے قبل سکیورٹی فورسز نے شیلنگ اور مسلح کارروائیوں کے دوران چونتیس افراد کو ہلاک کیا تھا۔

وسطی شامی شہر حمص میں عرب لیگ کے مبصرین کی آمد سے قبل حکومتی فوج کے ٹینکوں نے واپسی کا سفر شروع کردیا تھا۔ حمص کی قریبی بستی باب عمر سے گیارہ ٹینکوں کو پیچھے ہٹایا گیا۔ ان ٹینکوں کو صبح کے وقت ہٹایا گیا تھا۔ اسی طرح درعا اور حما سے بھی ٹینکوں کو ہٹا لیا گیا ہے۔

پیر کے روز شام پہنچنے والے پچاس مبصرین کے گروپ کی قیادت سوڈانی فوج کے جنرل محمد احمد مصطفیٰ الضابی کر رہے ہیں۔ الضابی بھی حمص پہنچے ہوئے ہیں۔ یہ ٹیم دس دس مبصرین کی پاٹچ ٹولیوں میں تقسیم کر دی گئی ہے۔ شامی اپوزیشن کی مرکزی تنظیم شامی قومی کونسل کے برہان غالیون کا کہنا ہے کہ مبصرین کی ٹیم دمشق حکومت کی ٹرانسپورٹ پر ہو گی اور اس کا قوی امکان ہے کہ سرکاری ٹرانسپورٹ اہلکار ان مبصرین کو متاثرین تک رسائی فراہم کرنے سے گریز کریں۔ ایسے ہی خدشے کا اظہار فرانس کی جانب سے بھی سامنے آیا ہے۔

Syrien Gewalt Proteste Deraa Daraa

شام میں حکومت مخالف تحریک کی ابتدا درعا سے ہوئی تھی

فرانس کی وزارت خارجہ نے مبصرین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اسد حکومت کے ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ وہ مبصرین کو ان مقامات سے دور رکھ سکتے ہیں جہاں کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ دوسری جانب عرب لیگ کے مبصرین نے اپنے سابقہ مؤقف کو دہرایا ہے کہ وہ اچانک اور بغیر شیڈیول کے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کریں گے۔ شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد مقدسی کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کے مبصرین کو ہر جگہ جانے کی اجازت ہے۔ اس دوران عرب لیگ شام میں مزید ایک سو مبصرین کی تعیناتی کے عمل کو حتمی شکل دے رہی ہے۔

شام نے عرب لیگ کے امن پلان پر بظاہر دو نومبر کو دستخط کیے تھے لیکن اس پر عمل درآمد میں تقریباً دو ماہ کا عرصہ بیت گیا۔ اس دوران عرب لیگ میں شام کی رکنیت کو معطل کرنے کے علاوہ پابندیاں بھی عائد کرنے کی تجویز کو منظور کیا گیا۔ مبصرین کی تعیناتی دو نومبر کے پلان کے تحت کی گئی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM