1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب لیگ کے الٹی میٹم پر شام کی خاموشی

شام کو عرب ملکوں کی تنظیم کی جانب سے ایک روزہ مہلت جمعے کو ختم ہو گئی۔ دمشق حکومت نے اس الٹی میٹم کے جواب میں چُپ کی چادر اوڑھے رکھی۔ ہفتے کو پابندیوں کا فیصلہ متوقع ہے۔

default

حسب توقع شام میں بشار الاسد حکومت نے جمعے کی دوپہر تک عرب لیگ کے مبصرین کی تعیناتی کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ایک میٹنگ اتوار کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہو رہی ہے۔ اس میں ترک وزیر خارجہ بھی شرکت کریں گے۔ اس میٹنگ میں شام کے بارے مزید لائحہ عمل اختیار کرنے پر بات چیت ہو گی۔

اس کے علاوہ عرب ملکوں کے وزرائے مالیات کی خصوصی میٹنگ ہفتے کو اس بارے میں مشاورت کرے گی اور غالب امکان ہے کہ پابندیوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ان میں فضائی سروس کی معطلی کے علاوہ اہم شامی شخصیات کے دیگر عرب ملکوں میں موجود اثاثوں کو منجمد کرنا بھی شامل ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ پہلے ہی شامی حکومت پر کریک ڈاؤن کی پالیسی کے تناظر میں مختلف پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

دوسری جانب شام کے وزیر مالیات محمد ندال الشعار نے جمعرات کو نیوز ایجنسی اے ایف پی کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ عرب لیگ کی جانب سے شام پر پابندیوں کا فیصلہ کردیا جاتا ہے تو یہ عرب دنیا کے لیے انتہائی افسوسناک ہو گا اور اس کا نقصان دو طرفہ ہو گا۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ تمام عرب دنیا اس پابندی کے فیصلے کا احترام نہیں کرے گی۔

Flash-Galerie Arabischer Frühling Jahresrückblick Syrien

عرب لیگ کے اجلاس میں شام کی خالی نشست

ادھر ترکی کے وزیر خارجہ محمد داؤد اوغلو نے ایک بیان میں کہا کہ اسد حکومت کے لیے عرب لیگ کے مبصرین کی تعیناتی کی تجویز حکومت سنبھالنے اور ملکی صورت حال بہتر کرنے کا آخری موقع تھا۔ انقرہ نے موجودہ صورت حال پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عرب لیگ کی دی گئی مہلت کے دوران شام کی حکومت کی جانب سے مبصرین کی تعیناتی کے معاہدے پر دستخط نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسد حکومت دنیا سے بہت کچھ چھپانے کی کوششوں میں ہے اور شام میں انسانی حقوق کی صورت حال انتہائی پریشان کن حد تک خراب ہو سکتی ہے۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو ہونے والی اپنی کرائسس میٹنگ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے بھی اپیل کی تھی کہ عالمی ادارہ بھی اس معاملے میں ان سے تعاون کرے۔ اس کا مقصد شام کے حوالے سے اٹھائے جانے والے عرب لیگ کی اقدامات کی عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان Martin Nesirky کے مطابق عالمی ادارے کی انسانی حقوق کی کونسل کی چیف مسلسل عرب لیگ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ترجمان کے مطابق بان کی مون نے بھی شام کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس