1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب لیگ کی سالانہ سمٹ آج اردن میں، بڑی پیش رفت متوقع نہیں

عرب ریاستوں کے سربراہان کی خطے میں مختلف تنازعات اور دہشت گردی جیسے مسائل کے حل کے لیے سالانہ سمٹ آج بدھ انتیس مارچ کے روز اردن میں ہو رہی ہے، جس میں ماہرین کے مطابق کسی بڑی پیش رفت کی کوئی امید نہیں ہے۔

Arabische Liga Mauretanien (picture-alliance/dpa/Emirates News Agency)

گزشتہ برس ہونے والی عرب لیگ سمٹ کے شرکاء

عرب دنیا کے سربراہان مملکت و حکومت کا یہ سربراہی اجلاس بحیرہ مردار کے ساحلی تعطیلاتی مقام سویمہ میں ہو رہا ہے، جو عالمی وقت کے مطابق صبح نو بجے شروع ہو گا اور جس میں شریک 22 عرب حکمرانوں میں سعودی عرب کے شاہ سلمان بھی شامل ہیں۔

سویمہ سے موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش اور خانہ جنگی کے شکار عرب ملک شام کے لیے ان کے خصوصی مندوب شٹیفان دے مستورا کی شرکت بھی متوقع ہے۔ شام کی عرب لیگ میں رکنیت کئی برسوں سے معطل ہے۔

عرب لیگ کا نیا سربراہ بھی مصری

حوثی شیعہ ملیشیا پر حملے جاری رکھے جائیں گے: عرب لیگ

داعش کے خلاف متحدہ عرب فورس ضروری، نبیل العربی

اردن کے وزیر اطلاعات کے مطابق اس اجلاس کے شرکاء شام، عراق، لیبیا اور یمن میں جاری جنگوں کے علاوہ خطے میں دہشت گردی اور مشرق وسطیٰ میں فلسطینی اسرائیلی تنازعے کے بارے میں بھی مشورے کریں گے۔

اردن کے شہر عمان میں قائم القدس مرکز برائے سیاسی علوم کے بانی سربراہ اور معروف ماہر سیاسیات عریب الرنتاوی کے مطابق اپنے نتائج کے حوالے سے یہ عرب سمٹ ممکنہ طور پر اس تنظیم کے گزشتہ سربراہی اجلاسوں سے مختلف نہیں ہو گی۔

Syrien Zerstörung (picture alliance/dpa/A. Muhammed)

شام کی چھ سالہ خانہ جنگی خطے کی ’جدید تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز بحران‘ بن چکی ہے

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ’’عرب دنیا کا سیاسی نظام کمزور ہے، جسے تقسیم اور انتشار کا سامنا ہے اور جسے برس ہا برس کی خامیوں نے اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ اس تناظر میں سویمہ میں آج ہونے والی سمٹ میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں ہے۔‘‘

عرب لیگ کے رکن بائیس ممالک کو 2011ء میں عرب اسپرنگ کے دور میں شروع ہونے والے بہت سے تنازعات کے حل کی کوششوں میں ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی اور اس بلاک کی رکن ریاستیں متعدد بحرانوں کی زد میں ہیں۔

ان میں سے سب سے بڑا تنازعہ شام کی چھ سالہ خانہ جنگی ہے، جو اب تک لاکھوں انسانوں کی جان لے چکی ہے اور جس کی وجہ سے کئی ملین انسان بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔

خود عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے بھی پیر ستائیس مارچ کے روز کہا تھا کہ عرب رہنما شامی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کریں، جو اب خطے کی ’جدید تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز بحران‘ بن چکی ہے۔

DW.COM