1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب لیگ کی جانب سے لیبیا میں فوجی کارروائی کے امکان کی مخالفت

عرب لیگ کے سربرہ امر موسیٰ نے لیبیا کی صورتِ حال کو باعثِ تشویش قرار دیا ہے۔ دوسری جانب عرب ممالک نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے لیبیا میں عسکری کارروائی نہیں کی جانی چاہیے۔

default

عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ

بدھ کے روز قاہرہ میں بائیس عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے لیبیا کی صورتِ حال پر تبادلہِ خیال کیا۔ عرب لیگ کے سربراہ امر موسیٰ کا کہنا تھا کہ لیبیا میں جاری بحران انتہائی خوفناک ہے۔

عرب لیگ کی جانب سے لیبیا کے رہنما معمر قذّافی کے خلاف کسی بھی نوعیت کی بیرونی فوجی کارروائی کی مخالفت کی گئی ہے۔ عرب ممالک کے وزراء کا کہنا ہے کہ لیبیا کا بحران عرب خطّے کا اندرونی معاملہ ہے اور اس حوالے سے کسی بھی بیرونی کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

EU-Afrika-Gipfel

قذافی کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک لیبیا کی صورتِ حال کی خرابی کے پیچھے ہیں

عرب لیگ کا یہ بیان امریکہ کی جانب سے سوئز کینال کی جانب اپنے بحری بیڑوں کو روانہ کرنے کے اقدام کے ردِ عمل کے طور پرسامنے آیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ بحری بیڑے لیبیا میں انسانی بحران سے نمٹنے اور امدادی کارروائیوں کے لیے بھیجے گئے ہیں۔

لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے ایک مرتبہ پھر مغربی ممالک اور امریکہ پر لیبیا کی صورتِ حال کو خراب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے امید ظاہر کی کہ لیبیا کے مختلف علاقے خانہ جنگی کے باوجود یک جہت رہیں گے۔

واضح رہے کہ عرب لیگ لیبیا کی رکنیت پہلے ہی معطل کر چکی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM