1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب لیگ کا الٹی میٹم: شام خبردار ہو جائے

عرب ملکوں کی تنظیم نے شام کو خبردارکیا ہے کہ وہ ایک دن کے اندر اندر لیگ کے پہلے سے پیش کردہ فارمولے کو تسلیم کرے وگرنہ پابندیوں کے لیے تیار ہوجائے۔ عرب لیگ نے اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ سے معاونت کی اپیل بھی کر دی ہے۔

default

عرب لیگ اور شام کی خالی کرسی

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کے روز ہونے والے خصوصی ہنگامی اجلاس میں شام کی اندرونی صورت حال پر سیرحاصل بحث کی۔ اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت ایک دن کے اندر اندر پہلے سے طے شدہ مصالحتی فارمولے کو من وعن تسلیم کرے، بصورت دیگر وہ اقتصادی پابندیوں کے تیار رہے۔ عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم نے ممکنہ پابندیوں کے تناظر میں اقوام متحدہ سے تعاون کی اپیل بھی کی ہے۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اپنی کرائسس میٹنگ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے بھی اپیل کرنے کی سفارش کو منظور کیا۔ اس کا مقصد شام کے حوالے سے اٹھائے جانے والے عرب لیگ کی اقدامات کی عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنا ہے۔ عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی نے میڈیا کوبتایا ہے کہ دمشق حکومت سےکہا گیا ہے کہ وہ جمعہ کے روز قاہرہ پہنچ کر لیگ کی جانب سے پیش کردہ معاہدے پر دستخط کرے۔ اس کے لیے دوپہر ایک بجے تک کا وقت مقررکیا گیا ہے۔

ء

شام میں حکومت مخالفین کو شدید حکومتی کریک ڈاؤن کا سامنا ہے

شام اگر آج جمعہ کی دوپہر تک عرب لیگ کے مبصرین کی تعیناتی کے معاہدے پر دستخط نہیں کرتا تو عرب ملکوں کے وزرائے مالیات کی خصوصی میٹنگ ہفتے کے دن اس بارے میں مشاورت کرے گی اور پابندیوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ یورپی یونین اور امریکہ پہلے ہی شامی حکومت پر کریک ڈاؤن کی پالیسی کے تناظر میں مختلف پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

شام کے وزیر مالیات ندال الشعار نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ اگر یہ سب کچھ ہوجاتا ہے تو یہ عرب دنیا کے لیے انتہائی افسوسناک ہو گا۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ تمام عرب دنیا اس پابندی کے فیصلے کا احترام نہیں کرے گی۔

دوسری جانب شامی سکیورٹی فورسز مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کی پالیسی پرعمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک تازہ پیشرفت یہ ہے کہ اب فوج کے منحرف افراد نے حکومتی مقامات اور فورسز پر حملوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ گزشتہ روز شام کے طول و عرض میں کم از کم بتیس افراد کے ہلاک ہونے کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ ان میں حکومت کی سکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکار بھی شامل ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM