1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب لیگ نے مانیٹرنگ ٹیم کے سربراہ کو ہٹانے کا مطالبہ مسترد کر دیا

عرب ملک شام میں عرب لیگ تنظیم کے مبصرین نے ان شہروں کا دورہ شروع کردیا ہے، جہاں کے عوام بشار الاسد حکومت کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مسلسل سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

شام کی اپوزیشن نے عرب لیگ کے مبصرین کی ٹیم کے سربراہ جنرل محمد احمد مصطفیٰ الضابی کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی الضابی کو مبصرین کی ٹیم کا سربراہ مقرر کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سوڈان کی آمریت پسند حکومت کے سربراہ صدر عمر البشیر کے ساتھی ہیں اور ان کا ماضی صاف نہیں ہے۔ پیرس میں مقیم اسد حکومت کے اہم مخالف اور منحرف رہنما ہیثم مانا کا بھی کہنا ہے کہ الضابی کو ہٹانا اگر مسئلہ ہے تو پھر ان کی اتھارٹی کو محدود کردیا جائے۔ دوسری جانب عرب لیگ نے جنرل الضابی کو مبصرین کی ٹیم کا سربراہ مقرر کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تعیناتی کو تمام اراکین کی تائید حاصل ہے اور وہ یقیناً درست اور مناسب رپورٹ مرتب کریں گے۔

Mohamed Ahmed Mustafa Al-Dabi

جنرل محمد احمد مصطفیٰ الضابی

عرب ملکوں کی تنظیم عرب لیگ کے ساٹھ مبصرین نے جمعرات کے روز بھی اسد حکومت کے خلاف نو ماہ سے جاری تحریک کے دوران متاثر ہونے والے شہروں کا دورہ کیا۔ یہ مبصرین مختلف ٹولیوں میں تقسیم ہیں۔ ان کے تین روز سے جاری دورے پر شام کی عوام  کے بیشتر حلقوں کی جانب سے عدم اعتماد سامنے آیا ہے۔ شام میں سرگرم افراد کو یقین نہیں ہے کہ مبصرین ایک شفاف رپورٹ مرتب کر سکیں گے۔

شام میں حکومت مخالفین کا خیال ہے کہ عرب لیگ کے مبصرین مسلسل اسد حکومت کے مقرر کردہ افراد کی معیت

Syrien Oppositionelle Demonstrationen

باب عمرو میں مظاہرہ کرنے والی خواتین

میں متاثرہ مقامات کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان مبصرین کو سکیورٹی کے تحت بھاری نفری دستیاب ہے۔ اس باعث ان کا براہ راست متاثرین کے ساتھ رابطہ مشکل ہو رہا ہے جو کریک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان حکومتی انتظامات کی وجہ سے سرگرم افراد مبصرین کے ساتھ رابطہ کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ شام کی صورت حال پر نگاہ رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مبصرین اور تحریک کے سرگرم افراد کے درمیان رابطے کا فقدان ہے۔

دورہ کرنے والی مبصرین کی ٹیم کے ایک رکن نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر عرب ٹیلی وژن الجزیرہ کو بتایا کہ شام کی صورت حال بہت خطرناک ہو چکی ہے۔ اس رکن کے مطابق وسطی شامی شہر حمص پر بدستور شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومتی فوج کی شیلنگ حمص کے اس علاقے پر کی جا رہی ہے، جہاں فری سیریئن آرمی مورچہ بند ہے۔

Syrien Oppositionelle Demonstrationen

مظاہرین اور مبصرین میں براہ راست رابطہ ہونا ابھی باقی ہے

مبصرین کے دورے کے حوالے سے موصولہ بعض رپورٹوں کے مطابق انہوں نے حمص میں حکومتی تشدد کا تازہ عمل اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ مبصرین کو معلوم ہوا کہ کس طرح حکومتی سکیورٹی فورسز عام لوگوں پر فائرنگ کرتی ہے۔ مبصرین کی ایک ٹیم کے رکن نے باب عمرو میں لوگوں سے دریافت کیا کہ وہ اس تباہی کے باوجود کیونکر اس شہر میں رہنے پر مجبور ہیں۔

شام بھیجےگئے مبصرین کا چین کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔ جب کہ امریکہ نے مطالبہ کیا ہےکہ ان مبصرین کو حکومت مخالف تحریک کے متاثرین سے رابطے کے لیے آزادانہ ماحول میسر کیا جائے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی دمشق حکومت سے ایسا ہی مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ:  عابد حسین ⁄ ،خبر رساں ادارے

ادارت:  عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس