1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عرب شیوخ کی مخصوص ’خواہشات‘ کا شکار پرندہ، ہوبارا

نایاب پرندہ ہوبارا بسٹرڈ ہر سال سرد موسم سے بچنے کے لیے وسطی ایشیا سے ہجرت کر کے پاکستان اور اس سے آگے عراق تک کے صحرائی علاقوں تک پہنچتا ہے مگر شہوانی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہزاروں کی تعداد میں شکار کر لیا جاتا ہے۔

ہوبارا بسٹرڈ کو تِلور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور عرب شیوخ کے لیے یہ پرندہ شہوانی طاقت بڑھانے کے لیے ایک انعام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پرندے کی ہجرت کے موسم کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں خلیجی ممالک کے متمول عرب شیخ بھی عراق کے صحرائی علاقوں میں اُترنا شروع ہو جاتے ہیں، جہاں وہ اپنے تربیت یافتہ بازوں کی مدد سے اس پرندے کو شکار کرتے ہیں۔

تاہم دسمبر میں عراقی صحرا میں شکار کے لیے جانے والے 26 قطری شہریوں کو اغوا کر لیا گیا تھا، جن میں ملک کے شاہی خاندان کے افراد بھی شامل تھے۔ علاقائی بحران کے تناطر میں عرب شیخوں کے لیے اس ’بادشاہوں کے کھیل‘ کو جاری رکھنے میں خطرات کھُل کر سامنے آئے۔ شیعہ مسلم ملیشیا کے زیر اثر علاقے سے ان افراد کے اغوا کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔

عراق کے علاقے سماوا میں شکاریوں کی تنظیم ’عراقی ہنٹرز ایسوسی ایشن‘ کے سربراہ عبدالرحمان حمود کے مطابق، ’’قطری شکاریوں کا اغوا عراق کے تمام جنوبی علاقوں کے لیے ایک تکلیف دہ دھچکا ہے۔‘‘ خیال رہے کہ قطری شہریوں کو سماوا کے علاقے سے ہی اغوا کیا گیا۔ حمود مزید کہتے ہیں، ’’ہم قبائلی کمیونٹی ہیں اور خلیجی شکاری ہمارے مہمان ہیں۔ اغوا کے بعد سے خلیجی ممالک سے ایک بھی شکاری عراق نہیں آیا۔‘‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عرب شیخ جس علاقے میں شکار کے لیے جاتے ہیں، وہاں انفراسٹرکچر کی تعمیر پر سرمایہ کاری کے علاوہ مقامی آبادی کے لیے معاشی فائدوں کا باعث بھی بنتے ہیں تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اُن کے اس شوق سے نہ صرف ایک ایسے پرندے کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے، جو ناپید ہو جانے کے خطرے سے دوچار ہے بلکہ عام طور پر ان کا سرمایہ ان علاقوں میں جاتا ہے، جو مختلف میلشیاؤں کے زیر اثر ہیں۔

عرب شیخ اپنے تربیت یافتہ بازوں کی مدد سے اس پرندے کو شکار کرتے ہیں

عرب شیخ اپنے تربیت یافتہ بازوں کی مدد سے اس پرندے کو شکار کرتے ہیں

’برڈ لائف انٹرنیشنل‘ نامی تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں ہوبارا یا تلور کی آبادی کا اندازہ 79 ہزار سے 97 ہزار تک ہے۔ اس تنظیم کے مطابق گزشتہ 20 برسوں کے دوران تِلور کی آبادی میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ اسے شکار کیا جانا اور اس کے رہائشی مقامات میں کمی ہے۔

پاکستانی سپریم کورٹ نے اس پرندے کے معدوم ہونے کے خطرات ہی کے پیش نظر گزشتہ برس تلور کے شکار پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم گزشتہ ماہ یہ فیصلہ حکومت کی اس درخواست کے بعد واپس لے لیا گیا کہ اس سے خلیجی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستانی نیوز میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک سعودی شہزادے نے 2014ء میں اپنی 14 روزہ شکاری مہم کے دوران 2100 تِلور شکار کیے تھے۔