عرب ریاستیں: جنگ کے ساتھ بدعنوانی بھی | معاشرہ | DW | 03.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عرب ریاستیں: جنگ کے ساتھ بدعنوانی بھی

نو عرب ریاستوں کے باشندوں کا خیال ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران وہاں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر بحران کے شکار ملک یمن اور لبنان میں۔

یہ بات کرپشن پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے بتائی گئی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی طرف آج منگل تین مئی کو جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے قریب 11 ہزار افراد سے ایک سروے کیا گیا۔ اس سروے کے مطابق گزشتہ برس الجزائر، مصر، اردن، مراکش، فلسطینی علاقوں، سوڈان اور تیونس میں بھی بدعنوانی میں اضافہ دیکھا گیا۔ جن ممالک کے باشندوں سے یہ سروے کیا گیا ان میں سے سے 61 فیصد کا یہ ماننا تھا کہ کرپشن کا یہ عفریت گزشتہ برس زیادہ پھیلا ہے۔

برلن میں قائم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، ’’بدعنوان رہنماؤں اور حکومتوں کے بارے میں عوامی عدم اطمینان دراصل مشرق وُسطیٰ اور شمالی افریقہ میں تبدیلی کی بڑی وجہ بنا خاص طور پر ان بڑے احتجاجوں اور مظاہروں کی جنہیں عرب اسپرنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘‘

بدعنوانی پر نظر رکھنے والی اس عالمی تنظیم کا مزید کہنا ہے، ’’اس خطے کے لوگوں کی اکثریت (61 فیصد) کا ماننا ہے کہ کرپشن میں حال ہی میں اضافہ ہوا ہے اور بہت سے لوگوں سمجھتے ہیں کہ حکومتی اہلکار اور ارکان پارلیمان بہت زیادہ بدعنوان ہیں۔‘‘

سروے میں شامل لبنان سے تعلق رکھنے والے 92 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ اس ملک میں کرپشن بڑھ رہی ہے۔ جبکہ بحران کے شکار یمن کے 84 فیصد اور اردن کے 75 فیصد افراد کی بھی اپنے ملکوں کے بارے میں یہی رائے تھی۔ دوسری طرف مصر سے تعلق رکھنے والے 28 فیصد اور الجزائر کے 26 فیصد افراد نے اپنے ملکوں میں بدعنوانی میں اضافے کا خیال ظاہر کیا۔

اس رپورٹ کے مطابق امید کا اظہار صرف تیونس کے لوگوں کی طرف سے کیا گیا

اس رپورٹ کے مطابق امید کا اظہار صرف تیونس کے لوگوں کی طرف سے کیا گیا

جن لوگوں کو اس سروے کے حوالے سے انٹرویو کیا گیا ان میں یمن سے تعلق رکھنے والے 77 فیصد لوگوں کا جبکہ مصر کے 50 فیصد کا یہ کہنا تھا کہ پبلک سروس سے متعلق کام کرانے کے لیے وہ رشوت ادا کر چکے ہیں۔ تیونس اور اردن میں ایسے افراد کی شرح بالترتیب نو اور چار فیصد تھی۔

اس رپورٹ کی مصنفہ کورالی پرِنگ کے مطابق لبنان سے تعلق رکھنے والے افراد خاص طور پر اپنے ملک کے بارے میں پریشان تھے جو شدید سیاسی تقسیم اور مئی 2014ء کے بعد سے بغیر صدر کے چل رہا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق امید کا اظہار تیونس کے لوگوں کی طرف سے کیا گیا جو عرب بہار کے بعد نہ تو افراتفری کا شکار ہوا اور نہ ہی دوبارہ آمریت وہاں قدم جما پائی۔ پرِنگ کے مطابق ، ’’تیونس سے اس سروے کے بہت ہی مثبت نتائج سامنے آئے۔ بہت سے لوگوں لوگوں کا خیال ہے کہ وہ بدعنوانی کے خلاف جنگ میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔‘‘