1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عرب دنیا میں سیاسی بحران اور پاکستان میں کاروباری امکان

مشرق وسطی کے عرب ملکوں میں ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہروں نے وہاں مقیم تارکین وطن کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے اور انھوں نے اپنا کاروبار آبائی ملکوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

default

لیبیا سے پاکستان لوٹنے والے پاکستانی

عمان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں احتجاج کرنے والے مظاہرین نے صرف غیر ملکیوں کی دکانوں کو ہی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جان و مال کی حفاظت کے لیئے مسقط میں فوج سے مدد لی جا رہی ہے۔

احتجاجی مظاہرین غیر ملکیوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مقامی لوگوں کے لیئے روزگار اور کاروبار کے مواقع دستیاب ہو سکیں۔

ادھر لیبیا سےآنے والے پاکستانیوں نے بھی ایسی خبروں کی تصدیق کی ہے کہ وہاں بھی غیرملکیوں کو لوٹ مار اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اس لیئے وہاں سے غیر ملکیوں کا بڑے پیمانے پر انخلاء جاری ہے۔ دبئی، بحرین، قطر اور تیونس سمیت دیگر علاقوں میں بہت بڑی تعداد میں موجود غیر ملکی (بشمول پاکیستانی) عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں اور وہ اپنے اپنے ملکوں میں کاروبار شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔

Yusuf Raza Gilani Premierminister Pakistan

پاکستانی حکومت مدد نہیں کر رہی، پاکستان واپس لوٹنے والوں کی شکایت

حال ہی میں جو سرمایہ کار عرب ملکوں سے پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کے لیئے پاکستان آئے ہیں ان میں دبئی کے ایک نوجوان بزنس مین قاسم ریاض بھی شامل ہیں۔ قاسم ریاض کی بیشتر زندگی پاکستان سے باہر گزری ہے۔ ان کے والد کا کاروبار بھی دبئی اور دیگر عرب ملکوں میں ہے۔ ان کی تعلیم بھی باہر کی ہے اور وہ بیرون ملک مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے بقول انھوں نے کبھی بھی پاکستان میں بسنے کا نہیں سوچا تھا لیکن دیار غیر میں پریشانی کی صورت میں احساس ہوتا ہے کہ اپنا وطن اپنا وطن ہوتا ہے۔

قاسم ریاض اپنے تارکین وطن دوستوں کے ساتھ پاکستان میں بزنس شروع کرنے والے ہیں۔ انٹرنیشنل بزنس اینڈ مینجمنٹ میں ماسٹرز ڈگری رکھنے والے قاسم کہتے ہیں کہ دہشت گردی ، کرپشن اور دیگر مسائل کے باوجود پاکستان میں کاروبار کی صورتحال بری نہیں ہے۔ انھوں نے ورلڈ بنک کی ۲۰۰۹ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  سستی مزدوری، کم کاروباری لاگت اور عوام میں بہتر قوت خرید کی وجہ سے پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں سرمایہ کاری کا بہتر منافع ملنے کی امید کی جا سکتی ہے۔

Flüchtlinge aus Libyen an der tunesisch libyschen Grenze

لیبیا اور تیونس کی سرحد پر پھنسے بنگلہ دیشی

قاسم کے بقول میٹرو کیش اینڈ کیری، پیزا ہٹ، کے ایف سی اور میکڈونلڈز سمیت بہت سی غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں منافع کما رہی ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کی یہاں کاروبار کرنا مفید ہے۔

قاسم نے مزید بتایا کہ بدقسمتی سے بیرونی دنیا میں پاکستان کا امیج اچھا نہیں ہے۔اس کے باوجود چین کی سب سے بڑی ہوم اپلائنسز کی کمپنی ٹی سی ایل اپنا پروڈکشن پلانٹ پاکستان منتقل کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑا مارکیٹ شئیر رکھنے والی ایک کثیر لاقومی کمپنی ریکیٹ اینڈ بینکیزئر نے بھی اپنی تمام تر پروڈکشن فرانس سے پاکستان منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قاسم کے مطابق میڈیکل، ہوم اپلائنسز،گارمنٹس اور الیکٹرانکس سمیت بہت سے شعبے اوورسیز پاکستانیوں کا مرکز ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ کاروبار کے لیے عرب ممالک سے پاکستان آنے والے ہم وطنوں کی رہنمائی اور معاونت کے لیئے حکومت کوئی مدد نہیں کر رہی۔ اگر حکومت پاکستان میں موجود کاروباری موقعوں کو پروموٹ کرکے پاکستان کا امیج بہتر کرنے کی کوشش کرے تو اس سے بھی کافی فائدہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: شامل شمس

DW.COM