1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عرب جمہوری تحریکیں، میانمار کے لیے مشعل راہ

جمہوریت نواز اپوزیشن رہنما آنگ سان سوچی نے مشرق وسطیٰ کی حالیہ عوامی تحریکوں کو فوج کے زیر اثر میانمار کے عوام کے لیے مشعل راہ قرار دیا ہے۔

default

جمہوریت نواز اپوزیشن رہنما آنگ سان سوچی

نوبل امن انعام یافتہ سوچی کا ایک برطانوی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمیں برما میں بھی مصر کی طرح کے ایک پر امن انقلاب کی ضرورت ہے۔‘‘ اسی طرح ٹائمز آف لندن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’عرب ممالک میں بہار‘ کہلانے والی تبدیلیاں اس وجہ سے برما کے عوام کے لیے مشعل راہ ہے کہ ہم اس تجربے سے گزر چکے ہیں۔

سوچی نے کہا، ’’مشرق وسطیٰ میں پیش آنے والے واقعات آزادی کی عالمگیر تمنا کو ہمارے ملک میں لے آئے ہیں۔ حالات و واقعات میں تبدیلی دوسرے ممالک میں آ رہی ہے لیکن ان تبدیلیوں کی وجہ سے میانمار کے لوگ خوش ہیں۔‘‘

Myanmar Burma Aung San Suu Kyi Rede in Rangun

فوجی حکومت نے انہیں گزشتہ برس کے انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک دیا تھا

عرب ملکوں کی طرح میانمار میں بھی سن 1988 اور 2007ء میں عوامی جمہوری تحریکوں کا آغاز ہوا تھا، جن کو وہاں کی فوجی انتظامیہ نے کچل دیا تھا۔ میانمار میں اپوزیشن کی خاتون رہنما آنگ سان سوچی کو گزشتہ برس نومبر میں رہا کیا گیا تھا۔ وہ مسلسل سات سال سے اپنے گھر پر نظر بند تھیں۔ مجموعی طور پر وہ تقریباﹰ 15 برس قید اور نظربندی میں گزار چکی ہیں۔

فوجی حکومت نے انہیں گزشتہ برس کے انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک دیا تھا۔ ان کی جماعت نے 1990ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، تاہم انہیں کبھی اقتدار میں آنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔

آنگ سان سوچی کو میانمار میں ’دی لیڈی‘ کہا جاتا ہے اور وہ جمہوریت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ میانمار میں سن 1962ء سے فوج نے ملک کا انتظام سنبھال رکھا ہے۔ تاہم وہاں گزشتہ برس نومبر کے انتخابات کے ساتھ ہی نیا آئین بھی مؤثر ہوگیا تھا، جس میں منتخب حکومت کی موجودگی میں بھی ملکی فوج کے قائدانہ کردار کو یقینی بنا دیا گیا ہے۔

نومبر میں ہوئے انتخابات پر میانمار میں جمہوریت نواز عناصر اور مغربی حکومتوں نے شدید تنقید کی تھی۔ ان انتخابات میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزامات بھی لگائے گئے تھے۔ سوچی کے مطابق فوج اپنے من پسند رہنما پارلیمان میں لانے میں کامیاب رہی ہے۔ ان کے مطابق پارلیمان میں ایک چوتھائی نشستیں انتخابی عمل سے پہلے ہی فوج کے لیے مختص کر دی گئی تھیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM