1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب اسپرنگ کے بعد خلیجی ریاستوں کا سربراہ اجلاس

چند عرب ملکوں میں طویل عرصےتک حکومت کرنے والے سربراہوں کے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریکوں کے آغاز کے بعد خلیج فارس کی ریاستوں کا سربراہ اجلاس آج سے سعودی عرب میں شروع ہو رہا ہے۔

default

یہ امر اہم ہے کہ مصر اور تیونس میں عوامی تحریکوں کی گلف ملکوں کی کونسل کی جانب سے مخالفت سامنے آئی تھی۔ یہ اور بات کہ یہ مخالفت عوامی غیض و غضب کے سامنے بے معنی رہی۔ یمن میں خلیجی تعاون کونسل، علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے علیحدہ ہونے پر راضی کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ مصر، تیونس، لیبیا، یمن، شام، عمان اور بحرین میں اٹھنے والی عوامی تحریکوں کے بعد خلیج فارس کی عرب ریاستوں کا سربراہ اجلاس پہلی بار منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں عرب اسپرنگ کے بعد کی صورت حال کو زیر بحث لایا جائے گا۔

خلیج فارس کے سربراہ اجلاس میں شام کی صورت حال پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اس سربراہ میٹنگ کے ایجنڈے پر ایران کو بھی فوقیت حاصل رہے گی۔ یہ میٹنگ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شیڈیول ہے۔ عرب لیگ بھی شام کی صورت حال پر اگلے بدھ کے روز بحث کرنے والی ہے۔ ایسے امکانات سامنے آئے ہیں کہ اسد حکومت عرب لیگ کے پلان کو منظور کر سکتی ہے۔

No Flash Gipfel der Golfstaaten in Kuwait

خلیجی تعاون کونسل کے سابقہ اجلاس کے شرکاء

خلیج فارس کے عرب ملکوں کی دو روزہ سربراہ میٹگ اس لیے بھی اہم ہے کہ چند روز قبل ایران کے انٹیلیجنس منسٹر حیدر مصلحی سعودی عرب کا دورہ مکمل کر چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی وزیر کا دورہ امکاناً خطے میں پیدا شدہ تناؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ خلیج فارس کی عرب ریاست بحرین شیعہ اکثریتی آبادی والا ملک ہے اور وہاں اسی برس فروری میں اٹھنے والی حکومت مخالف تحریک کو دیگر عرب ریاستوں کے تعاون سے کرش کیا جا چکا ہے۔ اس تحریک کے پس پردہ ایران کے ہاتھ ہونے کی بات بھی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں سعودی سفیر کے قتل کے ایرانی منصوبے کو امریکی حکام بے نقاب کر چکے ہیں۔

رواں برس کے دوران مشرق وسطیٰ میں اٹھنے والی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں بھی بڑھ چکی ہیں اور اس میں کمی کا اس وقت کوئی امکان نہیں ہے۔ عالمی کھپت کے تناظر میں خام تیل کی صورت حال پر بھی لیڈران بات چیت کریں گے۔ عرب اسپرنگ کے دوران عمان اور بحرین کو خام تیل کی فراہمی کی گئی تھی اور اس میٹنگ میں اس تیل کی رقوم کی ادائیگی کے معاملے کو بھی زیر بحث لایا جا ئے گا۔

خلیجی تعاون کونسل (GCC) کی چھ رکن ریاستوں میں سعودی عرب، بحرین، کویت، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ اردن اور مراکش نے بھی اس میں شمولیت کی درخواست دے رکھی ہے۔ ان کی رکنیت پر بحث کا عمل جاری ہے۔ یمن بھی اس کونسل کی رکنیت کا خواہشمند ہے اور اس کا امکان ہے کہ سن 2016 میں وہ مکمل رکن بن جائے گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس