1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عرب اسرائیل تنازعہ: ایک نہ ختم ہونے والی کہانی

1948 میں اسرائیل کے اعلان آزادی کے بعد متعدد عرب ممالک کی جانب سے اس نئی ریاست کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

default

شروع ہی سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین تعلقات کشیدہ ہوتے چلے گئے

-19491948 کی پہلی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت میں کامیابی حاصل کی بلکہ اقوام متحدہ کی تجویز کردہ سرحدی حدود سے ما وراء اپنی سرحدوں کو وسیع بھی کیا۔

Bürgerkrieg im Gaza-Streifen

فلسطینی عسکری تنظیم حمّاس اسرائیل کے وجود کے خلاف ہے


اسی وقت سات لاکھ فلسطینی اپنے علاقوں کو چھوڑ کر لبنان، اردن، مصر اور غرب اردن کے علاقوں کے پناہ گزین کیمپوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس جنگ کا خاتمہ امن معاہدے کے بجائے فائر بندی کے ذریعے ہوا تھا۔ اس کے بعد سے اسرائیل اور عرب ممالک کے مابین مزید جنگیں ہوئیں جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیل مسلسل اپنی سرحدوں کو پھیلاتا چلا گیا۔

شروع ہی سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین تعلقات کشیدہ ہوتے چلے گئے اور تب سے مشرق وسطٰی میں قیام امن کی کوششیں جاری ہیں۔

1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے مصر کے جزیرہ نما سینا، شام کی گولان کی پہاڑیوں اور غرب اردن اور غزہ پٹی پر قبضہ کرلیا۔ دو سال بعد اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ William Rogers نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 242 کی بنیاد پر پہلا جامع امن معاہدہ پیش کیا۔ اس کے تحت اسرائیل کواقوام متحدہ کی تجویز کردہ سرحدوں کا احترام کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے چھوڑ دینا چاہئے تھے نیز فلسطینی پناہ گزینوں کو دوبارہ ان کے علاقوں میں آباد کیا جانا چاہئے تھا۔ تاہم اس منصوبے کو اسرائیل کے ساتھ ساتھ عرب ممالک نے بھی قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

Iran Atom Präsident Mahmud Ahmadinedschad

اس تنازعے میں ایران میں بھی شامل ہو چکا ہے


کئی برسوں تک مشرق وسطی میں فائر بندی کو ایک امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوئی خاطر خواہ کوشش نہیں کی گئی۔ 1977 میں اس وقت کے مصری صدر اور بعد میں امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والے انور السادات اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی زمہ داری نباہ رہے تھے۔ 1979 میں اس وقت برسر اقتدار امریکی صدر Jimmy Carter کی ثالثی میں Camp David کا امن معاہدہ طے پایا۔ اس کے نتیجے میں مصر کو اسرائیل کے قبضے والے جزیرہ نما سینا کو واپس حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی تاہم غرب اردن، غزہ پٹی اور فلسطین کی خود مختاری کے معاملات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

اسرائیل اور مصر کے مابین طے پانے والے اس امن معاہدے کو عرب ممالک کی اکثریت اور تنظیم آزادی فلسطین PLO نے کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لئے۔ اکتوبر1981 میں قاہرہ منعقدہ ایک ملٹری پریڈ کے دوران اسلامی انتہا پسندوں کی جانب سے صدر سادات کو قتل کر دیا گیا اور اس کے نتیجے میں قیام امن کا عمل وہیں رک گیا۔ نومبر1988میں فلسطینی نوجوانوں کی طرف سے شروع کردہ اسزائیلی قبضے کے خلاف مزاحمتی مہم "پہلی انتفادہ" کے دور میں PLO کے قائد یاسرعرفات نے فلسطینی ریاست کی آزادی کا اعلان کیا تھا تاہم اس کی سرحدوں کا تعین نہیں ہوا تھا۔

BG60JahreIsrael Mauer in der Westbank

اسرائیلی اور فلسطینی علاقوں کے درمیان کھڑی ایک متنازعہ دیوار

پھر مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے ایک عالمی امن کانفرنس کے انعقاد کا مطالبہ کیا گیا تاہم بڑی طاقتوں کے ہاں سیاسی ارادے کے فقدان کے سبب تین سال کی تاخیر سے اکتوبر 1991 میں اس عالمی کانفرنس کا انعقاد ہسپانوی شہر میڈرڈ میں ہوا۔ کچھ ہی عرصے بعد Oslo میں اسرائیل اور فلسطین کے مابین خفیہ مذاکرات ہوئے۔

1993 میں Land for Freedom کو بنیادی اصول بناتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس کی مدد سے Gaza-Jericho یا 1۔Oslo معاہدے کا مسودہ تیار کیا گیا جس پر 1994 میں قاہرہ میں دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کے تحت غزہ اور شہر Jericho کے علاقے میں فلسطینیوں کی خود مختار انتظامیہ قائم کی جانا تھی۔ ایک سال بعد اس معاہدے کو جامع اور تفصیلی بنایا گیا اور یہ Oslo-2 معاہدہ کہلایا۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ، Jericho اور غرب اردن کے چند علاقوں پر اپنا قبضہ ختم کر دیا۔

اسرائیلی فلسطینی امن معاہدہ 1995 میں اسرائیلی وزیر اعظم Yitzhak Rabin کے قتل کے بعد منقطع ہوگیا۔ اس سلسلے میں پیش رفت کی کوششیں مشرق وسطٰی کے بحران کے حل کے لئے قائم کردہ چار فریقی گروپ، جس میں یورپی یونین، امریکہ، روس اور اقوام متحدہ شامل ہیں، کی طرف سے دیکھنے میں آئیں جنہیں خطے کے لئے روڈ میپ کا نام دیا گیا۔ اس کے تحت ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آنا چاہئے۔ تاہم اس کے بدلے میں فلسطینیوں کو اسرائیل کی بقاء کی ضمانت دیتے ہو ئے اس کا ریاستی وجود تسلیم کرنا ہوگا نیز دہشت گردی کا مکمل خاتمہ بھی کرنا ہوگا۔ یہ منصوبہ اس وقت بھی مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششوں کے ضمن میں بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔