1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’عربی ناک اور اسرائیلی فوجی وردی‘ ہیلووین کے نئے کسٹیومز

امریکا میں اشیاء کی فروخت کے بڑے بڑے ادارے ایک نئے اسیکنڈل کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس اسکینڈل کا تعلق ہیلووین کے تہوار میں پہنے جانے والے لباس سے ہے۔ ہیلووین اکتیس اکتوبر کو دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے۔

ہیلووین امریکا میں بڑے اہتمام کے ساتھ منایا جانے والا ایک تہوار ہے۔ اس دوران لوگ خوفناک لباس پہنتے ہیں اور چہروں کو بھی ڈراؤنا بنا کر باہر نکلتے ہیں۔ ہیلووین کے موقع پر مختلف کمپنیاں نت نئے لباس یا کسٹیومز پیش کرتی ہیں۔ اسی طرح کچھ امریکی کمپنیوں نے امسالہ ہیلووین کوسٹیومز کے طور پر اسرائیلی فوجیوں کی یونیفارم اور عربی ناک متعارف کرائی ہیں۔ شہری حقوق کی تنظیموں نے اس اختراع کو جارحیت اور نسلی امتیاز قرار دیا ہے۔

امریکا کے سب سے بڑے آجر ادارے وال مارکٹ نے یہ تنازعہ سامنے آتے ہی اپنے تمام اسٹوروں سے یہ دونوں لباس ہٹا دیے جبکہ آن لائن خرید و فروخت کے ایک بڑے ادارے ’ای بے‘ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی جانب سے بھی ان کسٹیومز کی فروخت روک دی گئی ہے۔ ای بے کے ترجمان کی ای میل کے مطابق ’’ ہم کسی بھی ایسی اشیاء کی نہ تو تشہیر کر سکتے ہیں اور نہ ہی فروخت کر سکتے ہیں، جس سے نفرت، تشدد، تعصب اور مذہبی منافرت میں اضافے کا خدشہ ہو‘‘۔

تاہم ایک اور بڑی آن لائن کمپنی ایمازون پر ابھی بھی یہ لباس خریدے جا سکتے ہیں اور اس کمپنی کی جانب سے اس تناظر میں کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا گیا۔ ایمازون پر اسرائیلی فوجی وردی کی قیمت تقریباً تیس ڈالر ہے۔ اس کسٹیوم کو کچھ خاص پسند نہیں کیا جا رہا اور کچھ لوگوں نے اس کے بارے بہت ہی منفی تبصرے کیے ہیں۔

اسی طرح ’’شیخ فگین نوز‘‘ اور ’’سلطان نوز‘‘ کی تشہیر کے لیے، جو تصویر پیش کی گئی ہے اس میں ایک بڑی ناک والے عربی کو دیکھا جا سکتا ہے، جس کا سر کپڑے سے ڈھکا ہوا ہے۔ امریکا میں نسلی تعصب کے خلاف عرب کمیٹی ’’ اے ڈی سی‘‘ نے مختلف اداروں کی جانب سے ایسے کسٹیومز کو فروخت نہ کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے۔ ’’ یہ لباس بہت سے لوگوں کے انتہائی جارحانہ ہے‘‘۔

فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے مابین حالیہ تصادم میں ساٹھ فلسطینی اور نو اسرائیلی ہلاک ہوئے۔