1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عربوں کے لیے اربوں کی امریکی امداد متوقع

آج امریکی صدر باراک اوباما عرب دنیا کے حوالے سے نئی امریکی حکمت عملی کا اعلان کر رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ تیونس اور مصر جیسے سیاسی تبدیلی کے عمل سے گزرنے والے ملکوں کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کا اعلان کریں گے۔

امریکی صدر باراک اوباما

امریکی صدر باراک اوباما

آج جمعرات کو عالمی وقت کے مطابق سہ پہر تین بج کر چالیس منٹ پر متوقع اپنے اس اہم خطاب کے ذریعے اوباما اُن ناقدین کو جواب دینا چاہتے ہیں، جن کے خیال میں عرب دُنیا میں عوامی احتجاجی تحریکوں پر امریکی صدر کی جانب سے رد عمل تاخیر سے اور غیر مربوط طریقے سے سامنے آتا رہا ہے۔

تیونس میں ہونے والے مظاہرے، جن کے نتیجے میں زین العابدین بن علی کو صدارت چھوڑنا پڑی، فائل فوٹو

تیونس میں ہونے والے مظاہرے، جن کے نتیجے میں زین العابدین بن علی کو صدارت چھوڑنا پڑی، فائل فوٹو

توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر تیونس اور مصر میں قائم ہونے والے عبوری ڈھانچوں کے استحکام کے لیے نئے امدادی پیکج متعارف کروائیں گے، بحرین اور یمن کی مطلق العنان حکومتوں پر اصلاحات متعارف کروانے کے لیے زور دیں گے اور شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف اپنا مؤقف اور زیادہ سخت کر دیں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ شمالی افریقہ اور مشرقِ وُسطیٰ کے لیے نئی امریکی حکمتِ عملی آہنی پردہ گرنے کے بعد مشرقی یورپ میں ہونے والے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔

اگرچہ اوباما کی اِس تقریر کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے لیکن عرب دُنیا کی عوامی احتجاجی تحریکوں پر امریکہ کے غیر متوازن رد عمل اور اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن قائم کرنے میں امریکی ناکامی کے باعث یہ بات غیر واضح ہے کہ امریکی صدر کی نئی کوششیں کہاں تک کامیاب ثابت ہو سکیں گی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے البتہ یہ بتایا گیا ہے کہ امریکہ اُس ’موقع سے فائدہ‘ اٹھانا چاہتا ہے ، جو اُس کے خصوصی یونٹ سِیلز کے ہاتھوں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت سے پیدا ہوا ہے۔

مصر میں کئی روز تک جاری رہنے والے احتجاجی مظاہروں نے حسنی مبارک کو صدر کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا

مصر میں کئی روز تک جاری رہنے والے احتجاجی مظاہروں نے حسنی مبارک کو صدر کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ برس کے اواخر میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر منقطع ہو گیا تھا۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں اوباما اپنی آج کی تقریر میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو پھر سے آپس میں بات چیت کرنے کے لیے تو کہیں گے تاہم یہ امکان کم ہی ہے کہ وہ مذاکرات کی بحالی کے لیے بہت زیادہ زور دیں۔ اِسی طرح جمعہ 20 مئی کو واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ اوباما کی مجوزہ ملاقات میں بھی کسی بڑی پیشرفت کی توقع نہیں کی جا رہی ہے۔ نیتن یاہو اور اوباما کے درمیان تعلقات کی نوعیت ویسے بھی زیادہ خوشگوار نہیں ہے۔

سن 2009ء میں قاہرہ میں اپنے تاریخی خطاب کے ذریعے اوباما نے مسلمان دُنیا کے ساتھ ایک ’نئے آغاز‘ کی امید دلائی تھی تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ امید دم توڑ چکی ہے اور عرب دُنیا میں امریکہ مخالف جذبات پھر سے زور پکڑ چکے ہیں۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس