عراق کے لیے 2.7 ارب ڈالر امریکی فوجی قرضہ، سود 6.5 فیصد | حالات حاضرہ | DW | 29.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق کے لیے 2.7 ارب ڈالر امریکی فوجی قرضہ، سود 6.5 فیصد

عراق نے داعش کے خلاف جنگ میں اپنے لیے 2.7 ارب ڈالر کا امریکی فوجی قرضہ یقینی بنا لیا ہے، جس کے لیے سالانہ شرح سود قریب 6.5 فیصد ہو گی اور یہ قرض زیادہ سے زیادہ ساڑھے نو سال میں واپس کیا جائے گا۔

Dollarnoten

عراق کو یہ قرضہ ساڑھے آٹھ سال میں واپس کرنا ہو گا، جس کے بعد ایک سال کا رعایتی عرصہ بھی ممکن ہو گا

عراقی دارالحکومت سے بدھ انتیس جون کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق بغداد حکومت کو ملک میں عراق اور شام کے متعدد علاقوں پر قابض دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے خلاف جس بڑی جنگ کا سامنا ہے، اس میں اسے بہتر ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔

اس مقصد کے لیے بغداد حکومت کے فوجی دستوں کو گولہ بارود کی فراہمی کے علاوہ جنگی طیاروں، ٹینکوں اور دیگر فوجی ساز و سامان کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے امریکا کی طرف سے 2.7 بلین ڈالر کا فوجی قرضہ فراہم کیا جائے گا۔

بغداد میں امریکی سفارت خانے کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق عراقی حکومت کو یہ فوجی قرضہ ساڑھے آٹھ سال کے عرصے میں واپس کرنا ہو گا اور اس مدت میں ایک سال کی توسیع بھی ممکن ہو گی۔ سفارت خانے کے بیان کے مطابق یہ قرضہ سالانہ بنیادوں پر 6.45 فیصد کی شرح سود پر مہیا کیا جائے گا۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ ان رقوم سے عراق اپنے ایف سولہ جنگی طیاروں کی سروس کرا سکے گا، ایم ون اے ون طرز کے ٹینکوں کی دیکھ بھال ممکن ہو سکے گی اور اس کے علاوہ بکتر بند گاڑیوں اور جنگی ہیلی کاپٹروں تک کے مسلسل قابل استعمال رہنے کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ امریکا نے عراق کو ایف سولہ طرز کے جنگی طیارے پہلی مرتبہ 2015ء میں فراہم کیے تھے۔

Irak islamischer Staat Kämpfer Januar 2014

’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادی 2014ء میں عراق کے قریب ایک تہائی علاقے پر قابض ہو گئے تھے

امریکی سفارت خانے کے مطابق اسی فوجی قرضے کی مدد سے عراق کی اُم قصر بندرگاہ اور ملک کے جنوب میں تیل کی دیگر تنصیبات کے لیے حفاظتی نظاموں اور عراقی بحریہ کے جہازوں کی دیکھ بھال بھی ممکن ہو سکے گی۔

عراق میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے 2014ء میں ملک کے قریب ایک تہائی علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے خلاف جنگ کے اخراجات اور عالمی منڈیوں میں تیل کی مسلسل کم ہوتی ہوئی قیمتوں کے باعث بغداد حکومت کی مجموعی آمدنی بہت کم ہو چکی ہے جبکہ پہلے کی طرح عراق اب بھی ملکی آمدنی کے لیے سب سے زیادہ انحصار اپنے برآمدی تیل پر ہی کرتا ہے۔

عراق کے لیے اس امریکی فوجی قرضے کی اہم بات یہ ہے کہ داعش کے خلاف جنگ کے تناظر میں واشنگٹن بغداد کو 2.7 بلین ڈالر دے گا لیکن زیادہ سے زیادہ ساڑھے نو سال کے عرصے میں سود در سود کی وجہ سے عراقی حکومت واشنگٹن کو مجموعی طور پر 4.9 ارب ڈالر تک واپس کرنے کی پابند ہو گی۔ اگر بغداد نے یہ قرض جلد لوٹا دیا، تو واپس کیے گئے اس قرضے کی مجموعی مالیت کچھ کم رہے گی۔

DW.COM