1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق کے سابق نائب صدر کو پھانسی دے دی گئی

صدام حکومت میں عراق کے نائب صدر طحہٰ یاسین رمضان کو بغداد میں پھانسی دے دی گئی۔ رمضان کو گزشتہ سال نومبر میں پہلے عمر قید کی سزا اور بعد میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

default

عراق پر امریکی حملے کے ٹھیک چار سال بعد عراق کے سابق نائب صدر طحہٰ یاسین رمضان کو بغداد میں پھانسی دے دی گئی۔ عراقی وزیراعظم نوری ال مالکی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سابق نائب صدر کو مقامی وقت کے مطابق تین بج کر پانچ منٹ پر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ پھانسی دیئے جانے کی اس کارروائی میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی اور سب کچھ قانون کے مطابق ہوا۔ رمضان اور صدام حسین ایک ہی مقدمے میں شریک ملزم تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے دجیل شہر میں ایک سو اڑتالیس شیعہ افراد کی ہلاکت میں سابق صدر کا سا تھ دیا تھا۔

رمضان کو پہلے عمر قید اور کی سزا ملی تھی جسے بعد میں اپیل کورٹ نے سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔مقدمے کی کارروائی کے دوران رمضان اس بات کو دہراتے رہے کہ شیعوں کی ہلاکت میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے اور ان پرصرف عراق کے اقتصادی شعبے کی ذمہ داریاں تھیں۔ انہیں 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سابق نائب طحہٰ یاسین رمضان کے خلاف شواہد ایسے نہیں تھے کہ جس کی بناءپر انہیں سزائے موت دی جاتی۔عراق کے جنوبی صوبے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سابق نائب صدر کو ان کی خواہش کے مطابق صدام حسین کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔ اس حوالے سے پہلے ہی صدام حسین کے خاندان سے سمجھوتہ طے پا گیا تھا۔