1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق کی تازہ صورتحال

ہلاکتوں اور دھماکوں کے ساتھ ساتھ عراق کے اندر کا سیاسی ماحول بھی مکدر ہوتا لگا ہے۔ حکمران شیعہ بلاک کے اندر بھی شکست و ریخت کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

default

ایک طرف امریکی اور عراق فوجیں بغداد میں خصوصی کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے تو دوسری طرف دجلہ و فرات کی وادی اور اس کے باہر تشددانہ واقعیات کا سلسلہ جاری ہے۔ ہلاک ہونے کے خطرات نے کربلا میں،امام حسین کے چہلم کے لئے جمع ہونے والے شیعہ زائرین کے ارادے کو متزلزل نہیں کیا۔ ان کی آمد جاری و ساری ہے اور ان کی گزرگاہوں پر مزاحمت کاروں کے حملے بھی جاری ہیں۔

جیسے داورہ کے مقام پر زائرین کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا اور اس میں ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔ ابھی کل ہی تو ہلہ میں شیعہ زائرین پر خودکش حملوں اور مارٹر گولوں کے حملوں میں ایک سو چالیس ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

ایک شیعہ اسلامی جماعت، فضیلہ پارٹی کے ایک تازہ اعلان کے مطابق وہ نوری المالکی حکومت اور متحدہ شیعہ اتحاد کی حمایت سے دستبر دار ہو رہی ہے۔ اس جماعت کی دوسو پچتر کے عراقی پارلیمنٹ میں پندرہ نشستیں ہیں اور یہ اس بلاک کی مستقبل میں حمایت کرے گی جس کی بنیاد فرقہ واریت پر نہ ہو۔ فضیلہ جماعت بصرہ میں انتہائی زیادہ ووٹ بینک رکھتی ہے۔

عراق کے حوالے سے ایک تازہ پیش رفت یہ ہے کہ امریکی سینٹ نے پاکستان میںامریکی سفیر ریان سی کروکر کی عراق میں نئی تعیناتی کی توثیق کر دی گئی ہے۔