1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق کی تازہ ترین صورت

عراق میں اغوا ہونے والے اپنے دو شہریوں کی رہائی کے لئے جرمن حکومت نے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ دوسری طرف بغداد میں جاری سیکیورٹی آپریشن کے باوجود ویک اینڈ پر درجنوں افراد متعدد خونریز بم حملوں کی نذر ہو گئے۔

default

وفاقی جرمن وزیر خارجہ Frank-Walter Steinmeier نے کہا ہے کہ چھ فروری کو عراق میں اغوا کئے گئے دو جرمن شہریوں کی رہائی کے لئے تمام تر کوششیں کی جارہی ہیں۔ ایک قدرے نہ معلوم مسلم شدت پسند گروپ نے انٹرنیٹ پر جاری کردہ ویڈیو میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ اگر جرمنی نے افغانستان سے اپنی افواج واپس نہ بلائیں تو وہ دس روز کے اندر ان یرغمالیوں کہ ہلاک کر دے گا۔ تاہم جرمن حکومت کی جانب سے اس مطالبے پر ابھی تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ جرمن روزنامہ Tagesspiegel نے سیکیورٹی زرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اغوا کردہ جرمن باشندوں میں سے ایک تقریباً 60 سالہ خاتون اور دوسرا اس کابیس سالہ نوجوان بیٹا ہے۔ اس خاتون کا شوہر ایک عراقی ڈاکٹر ہے۔

سن 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد سے جرمن شہریوں کے اغوا کی یہ تیسری واردات ہے۔ مصر کے نامور اسلامی رہنما شیخ اسامہ مصطفیٰ حسن نصر نے، جو کہ عمر المصری کے نام سے جانے جاتے ہیں، اغواکاروں سے ان یرغمالیوں کی رہائی کی اپیل کی ہے ۔

گزشتہ ویک اینڈ پر ہونے والے کئی خونریز بم حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد آج بغداد کی سڑکیں ایک مرتبہ پھر جنازوں میں شریک سینکڑوں افراد سے بھری رہیں۔ ہلاک شدگان کی اکثریت ان شیعہ زائرین کی تھی جو کربلا میں حضرت امام حسین کا چالیسواں منانے گئے تھے۔ بغداد میں امن و امان بحال کرنے کے لئے پچھلے ایک ماہ سے امریکی اور عراقی فورسز کا مشترکہ سیکیورٹی آپریشن جاری ہے۔

ان تازہ حملوں سے اس آپریشن کی بظاہر ناکامی ظاہر ہورہی ہے۔ عراق میں نئے امریکی کمانڈر جنرل David Petraeus نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی افواج کو بغداد میں کار بم فیکٹریاں تباہ کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسی زیادہ تر فیکٹریاں بغداد کے گرد و نواح میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان کی نشاندہی انتہائی مشکل ثابت ہو رہی ہے۔ اس تازہ فوجی آپریشن کے لئے امریکہ نے بغداد اور پڑوسی صوبے انبار میں پہلے سے متعین 90,000 عراقی اور امریکی فورسز کی مدد کے لئے مزید کل تقریباً 26,000 فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی اخبار Los Angels Times کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت دفاع نے بغداد آپریشن کی ناکامی کی صورت میں اپنے فوجی دستوں کو خطرات سے بچانے کے لئے ان کے فوری انخلاءکا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ ادھر سیاسی میدان میں عراقی قیادت اپنے داخلی اختلافات اور پارلیمان میں انتشار کے باوجود ان وعدوں کو پورا کرنے کی تک و دو میں لگی ہوئی ہے جو اس نے امریکہ سے کئے تھے۔ ان وعدوں میں سیکیورٹی کی بحالی، تیل کی پیداوار اور تقسیم کا ٹھوس منصوبہ اور آئینی ترامیم جیسے معاملات میں پیش رفت شامل ہیں۔ لیکن وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت میں تبدیلیوں کے حالیہ اشارے ملکی سیاست کو مزید مفلوج کر سکتے ہیں۔