1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق کی تازہ ترین صورت حال

شمالی عراق میں ترک فوجی کاروائی سے امریکہ سے زیادہ کسی کو تشویش نہیں ہو سکتی کیونکہ دونوں ملک امریکی حلیف ہیں۔شمالی عراق میں فوجی آپریشن کے بعد عراقی صدر جلال طالبانی ترکی کے دورے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

دائیں طرف عراقی صدر اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ

دائیں طرف عراقی صدر اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ

ترکی کے طالبانی کے دورے کا بنیادی مقصد دونوں ملکوں کے درمیان کرد باغیوں کے مسئلے پر پیدا شدہ ان بن کو رفع کرنا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دورہ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے ترکی کے دورے کے دوران طے شدہ ایجنڈے کی روشنی میں ہو لیکن اِس سے یقیناً بُش انتظامیہ کو راحت نصیب ہو گی ۔ طالبانی کے تین روزہ ترکی کے دورے کے دوران دو طرفہ اُمور کے کئی اور پہلوبھی بات چیت کے ایجنڈے پر شامل ہیں۔

عراق کے اندر آج بھی مختلف تشدد کے واقعیات رپورٹ کیئے گئے ہیں۔ وسطی بغداد میں جمعرات کی شام ہونےوالے بم دھماکوں میں اڑسٹھ افراد کے ہلاک ہونے سے سارے عراق پر سوگواریت چھائی ہوئی ہے۔ ان میں ایک سو پچاس سے زائد کے زخمی ہو نے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔آج بھی کئی ہلاک شدگان کی نعشیں تدفین کو کربلا لائی گئیں۔

عراقی وزیر اعظم نے سکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ ایسے حملہ آوروں کا صفایا کرنے کے لیئے ضروری ہو توتعاقب بھی کیا جائے۔ عراقی وزارت داخلہ اور عراق میں متعین امریکی فوج کو یقین ہے کہ یہ کاروائی القائدہ کے مزاحمت کاروں نے کی ہے۔ اِس حوالے سے امریکی فوج کےLt. Col. Steve Stover کا کہنا ہے کہ ایسے تمام افراد اب نشانے پر ہیں اور جلد ہی وہ زور دار کاروائی کے بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچا دیئے جائیں گے ۔ ویسے ابھی تک اِن دھماکوں کی ذمہ داری کسی گروپ کی جانب سے قبول کرنے کا اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

پہلی فروری کے مارکیٹ بم دھماکوں کے بعد ہلاکتوں کے اعتبار سے یہ بڑا واقع ہے۔ پہلی فروری کے بم دھماکے میں ایک سو افرارد ہلاک ہوئے تھے۔ جمعرات کی شام کے بم دھماکے امریکی فوج میںکمی کے اعلان کے بعد کیئے گئے ہیں۔ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ایک بریگیڈ کے دو ہزار فوجیوں کا متبادل نہیں روانہ کیا جائے گا۔

عراق کے اندر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جمعرات کی شام کے بم دھماکوں کی ایک وجہ امکاناً آنے والے دو چار دنوں میں سابق صدر صدام حسین کے کزن کیمیکل علی کی موت کی سزا پر عمل درآمد کی تیاریوں بھی ہو سکتی ہیں اورحکومت کے لیئے یہ پیغام بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر کیمیکل علی کی موت کی سزا پر عمل کیا گیا تو ایسے واقعیات کا اعادہ ہو سکتا ہے۔

تشدد کے اور خبروں کے علاوہ موصل شہر میں ایک پولیس سٹیشن کے قریب ہونےوالا خودکُش بم دھماکہ بھی نمایاں ہے ۔جس واقع میںچار عراقی پولیس اہلکار ہلاک اوردیگر سترہ زخمی ہیں۔زخمیوں میں بیشتر پولیس اہلکار ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق موصل شہر القائدہ کا اب آخری شہری گڑھ بچا ہے اور اس کو بھی جلد کاروائی سے ختم کردیا جائے گا۔اس سلسلے میں فیصلہ کن کاروائی کا اعلان عراقی وزیر اعظم کی جانب سے جنوری میں سامنے آ چکا ہے۔