1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

عراق میں کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر پچاسی حملے، انقرہ حکومت

ترک فضائیہ نے عراق میں قائم کرد باغیوں کے 85 ٹھکانوں پر نئے حملے کیے ہیں۔ ہفتے کے دن جاری کیے گئے ایک بیان میں ترک وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ یہ حملےجمعہ کو کیے گئے۔

default

ترک فوج کے مطابق عراق اور ترکی کے مابین پہاڑی سرحدی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے کردستان ورکرز پارٹی PKK پر مجموعی طور پر دو حملے کیے گئے، جن میں کم ازکم پچاسی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم فوج نے یہ نہیں بتایا کہ ان حملوں کے نتیجے میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں۔ ترک افواج کے سربراہ نے کہا، ’صبح اور شام کو کیے گئے دو حملوں میں باغیوں کے پچاسی ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا‘۔

بتایا گیا ہے کہ یہ حملے شمالی عراقی علاقوں ہالکروک، اواسین باسیان اور زاب میں کیے گئے، جہاں ترک حکام کے بقول کرد باغی محفوظ ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں اور وہ ترکی میں سرحد پار کارروائی کرتے ہیں۔ انقرہ حکومت کے مطابق عراق میں کم ازکم دو ہزار کرد باغی پناہ لیے ہوئے ہیں۔

فوج نے ان فضائی حملوں کی فوٹیج بھی جاری کی ہے، جس میں باغیوں کے ٹھکانوں سے آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ فوج کے بقول جمعہ کو کیے گئے فضائی حملوں کے مؤثر ہونے کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور جلد ہی اس بارے میں تفصیلی حقائق جاری کر دیے جائیں گے۔

Türkische Kriegsflugzeuge

کرد باغیوں کے خلاف ترک فضائیہ کا آپریشن تین روز سے جاری ہے

ایک برس کے وقفے کے بعد ترک فضائیہ نے بدھ کے دن باغیوں کے ٹھکانوں پر اس وقت حملے شروع کیے تھے، جب جنوب مشرقی ترکی میں مبینہ طور پر کرد جنگجوؤں کی ایک کارروائی کے نتیجے میں 9 ترک سیکورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ ترکی فضائیہ کی طرف سے باغیوں کے ٹھکانوں پر مسلسل تین دنوں سے حملے کیے جا رہے ہیں۔

ترکی حکام کے مطابق جولائی سے اب تک کرد باغیوں کے مختلف حملوں میں کم ازکم چالیس ترک سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد اب باغیوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترک حکومت نے اس نئے واقعے کے بعد اعلان کیا ہے کہ عراق سے ملحقہ سرحد کی مؤثر طریقے سے نگرانی کرنے اور کرد باغیوں کی ممنوعہ تنظیم PKK کی کارروائیاں روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ان نئے اقدامات کے تحت سپیشل بارڈر پولیس اور فوجی دستے عراقی سرحدوں پر تعینات کیے جا سکتے ہیں۔

ترکی کے کرد اکثریتی علاقے میں باغیوں نے ایک آزاد مملکت کے قیام کے لیے 1984ء میں ہتھیار اٹھائے تھے۔ اس تنازعہ میں اب تک 45 ہزار جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس