1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں پولنگ مکمل، دہشت گردانہ کارروائیوں میں 38ہلاک

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے لئے ووٹ ڈالنے کا وقت ختم ہوگیا ہے۔ اس موقع پر مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں 38عراقی مارے گئے ہیں۔ اس سلسلے کے دو بڑے حملے دارالحکومت بغداد میں کئے گئے۔

default

عراق میں آج ہونے والے انتخابات کے لئے درج شدہ ووٹرز کی تعداد تقريباً 19ملين جبکہ امیدواروں کی تعد چھ ہزار سے زائد تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات اور ان کے بعد کا وقت، عراق کے مستقبل کے لئے فيصلہ کن ثابت ہوگا کہ ملک ترقی کی راہ پر آگے بڑھتا ہے يا سن 2005ء کے انتخابات کے بعد کی طرح سے دوبارہ قوميتی جھگڑوں کا شکار جائے گا۔

اتوار کو شمال مغربی بغداد میں مارٹر حملوں سے ایک عمارت منہدم ہوگئی جس کے نتیجے میں چودہ ہلاکتوں واقع ہوئی جبکہ دارالحکومت کے مغربی حصے میں فائرنگ و مارٹر حملوں میں سات افراد مارے گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق بغداد کے شمال مشرق میں واقع ’حریا‘ کے علاقے میں دستی بم کے حملے میں ووٹ ڈالنے کے لئے قطار بنائے تین افراد ہلاک ہوئے۔

Flash Irak Wahl 2010

بغداد میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے تقریباً دو لاکھ اہلکار تعینات کئے گئےتھے

اسی طرح کا ایک اور واقعہ محمودیہ شہر میں پیش آیا جہاں ایک پولنگ مرکز کے اندر نصب بم پھٹنے سے ایک پولیس اہلکار کی موت واقع ہوئی۔ گزشتہ روز ایک کار بم دھماکے میں ایک مقامی اور دو ایرانی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ نجف شہر میں پیش آیا جس کے سبب 34 ایرانیوں سمیت 54 افراد زخمی ہوئے۔ ایرانی زائرین کی رہنمائی کرنے والے ایک عینی شاہد کے مطابق بم دھماکہ حضرت علی کے مزار کے پاس ہوا جہاں زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

انتخابات کے دوران محض بغداد میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے تقریباً دو لاکھ اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ ایک دن کے لئے عراق کی سرحدوں اور ہوائی اڈوں کو بند کردیا گیا ہے جبکہ سڑکوں پر گاڑی چلانے پر بھی پابندی ہے۔ عراق پر امریکی حملے کے بعد ان انتخابات کو نئی انتظامیہ کے لئے ایک امتحان سمجھا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے بغداد میں شیعہ مکتبہ فکر کی حامی حکومت اور امریکی سرپرستی میں ہونے والے ان انتخابات سے عوام کو دور رہنے کی دھمکی دی ہے۔

Wahlen in Irak vor einem Wahllokal

2005ء کے انتخابات کے برعکس حالیہ انتخابات میں سنی عرب عراقی بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں

پولنگ کے دوران دارالحکومت میں پیش آنے والے واقعات کے علاوہ فلوجہ، بابل، سمارا اور دیگر شہروں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ یہ دھماکے محض عوام کو ڈرانے دھمکانے کے لئے ہیں، عراقی عوام بہادر ہیں اور ان حملوں سے عراقی عوام کا عزم کمزور نہیں پڑے گا۔

خبررساں ادارے AFP کے مطابق 2005ء کے انتخابات کے برعکس سنی عرب شہری بھی ان انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں ان کے بائیکاٹ کے باعث شیعہ اکثریتی حکومت کا قیام عمل میں آیا تھا۔ شمالی عراق کے کرد خودمختار حصے کے علاوہ، جو ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے، بقیہ تقریباً تمام عراق جنگ کے سات سال گزرنے کے بعد اب تک تباہی کا منظر پیش کررہا ہے۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان

DW.COM