1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے لئے ووٹنگ آج ہو رہی ہے

عراق میں صدام دَور کے بعد اب تک کے دوسرے پارلیمانی انتخابات کے لئے پولنگ آج اتوار کو ہو رہی ہے۔ تاہم بغداد حکومت کو ملک میں امن و سلامتی کے حوالے سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔

default

Irak Wahlen Wahlplakate in Bagdad Straße

بیرون ممالک میں مقیم عراقی پیشگی ووٹ ڈال چکے ہیں

عراق کے تین سو پچیس نشستوں والے ایوان کے لئے لاکھوں ووٹرز خوف ہراس کے سائے میں اتوار کو اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ القاعدہ کی دھمکی کے تناظر میں حکومت نے امن وسلامتی کو کنٹرول کرنے کے لئے پیش بندی کے طور پر الیکشن کے دِن بارہ گھنٹے کےکرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ یہ کرفیو ملک بھر میں نافذ کیا جائے گا۔ تاہم سنی علاقوں میں کرفیو کے دوران خصوصی طور پر سخت سیکیورٹی کا عمل جاری رہے گا۔ سیکیورٹی کا کلی انتظام عراقی وزارت داخلہ اور فوج و پولیس کے ہاتھ میں ہے۔ عراق میں تعینات دوسرے اعلیٰ ترین امریکی فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل چارلس جیکبی نے اس کو عراقی شو سے تعبیر کیا ہے۔

دوسری جانب عراق خانہ جنگی کے باعث دوسرے ملکوں میں آباد ہونے والے اس کے شہری اپنے ووٹ جمعہ کو ہی کاسٹ کر چکے ہیں۔ دنیا کے مختلف سولہ ملکوں کے اسّی شہروں میں آباد چودہ لاکھ عراقیوں نے ووٹ ڈالے۔شام اور اردن میں عراق کی ایک بڑی آبادی مہاجرین کی صورت میں آباد ہے اور یہ زیادہ تر سنی ہیں۔ شام اور اردن کے سنیوں کے ووٹ عراق میں متحرک سنی سیاستدانوں کے لئے انتہائی کشش رکھتے ہیں۔

دوسری جانب اتوار کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حوالے سے شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر نے ایرن سے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے حامیوں کو ووٹ ڈالنے کی تلقین کی ہے۔ اِس سے دو روز قبل جمعہ کی نماز کے اجتماعات میں عراقی علماء نے زور دیا کہ ووٹرز ضرور ووٹ ڈالنے جائیں۔ بدھ کو بعقوبہ میں تین خود کش حملوں میں تینتیس افراد ہلاک ہوئے تھے، جس سے شہر کی فضا بوجھل تھی لیکن شہر کے اہم عالم دین شیخ عبدالرحمٰن الجورانی نے مرکزی الحئی مسجد میں ووٹرز پر واضح کیا کہ ووٹ ڈالنا اُن پر لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل شہر میں امن کے قیام میں معاونت کرے گا۔ اسی طرح اہم ترین شیعہ عالم آیت العظمیٰ علی الحسینی السیستانی نے بھی ووٹ ڈالنے کو اہم قرار دیا۔

Symbolbild Wahlen im Irak NO FLASH

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی انتخابی مہم کے دوران

عراق پارلیمانی الیکشن میں کامیابی کے حوالے سے وزیر اعظم نوری المالکی خاصے پر امید ہیں۔ دوسری جانب کامیابی کے دعوے کرنے والوں میں سابق وزیر اعظم ایاد علاوی بھی ہیں، جو سیکیولر خیالات کی وجہ سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ ایک اور سابق نائب وزیر اعظم احمد شلابی بھی وزات عظمیٰ کے منصب پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس منصب کے حصول کی خواہش شیعہ نائب صدر عادل عبدل مہدی اور وزیر خزانہ باقر جابر صلغ بھی رکھتے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM