1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں وفاقی طرز حکومت پر متنازعہ بحث

بہت سے شیعہ اور کر د رہنما صوبائی خودمختاری پر مبنی وفاقی طرز حکومت کو اپنے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جبکہ اہل سنت کے لئے یہ چیز قابل قبول نہیں ہے کہ تیل کے ذخائر والے علاقے شیعوں اور کرد وں کو مل جائیں اور ان کے پاس صرف خشک اور بنجر زمین رہ جائے۔

default


گزشتہ روز عراقی پارلیمنٹ میں شیعہ اور کر د اراکین کی طرف سے پیش کیے گئے داخلی خود مختاری کے ایک بل پر بحث و گفتگو کا آغاز ہوا جس پر سنی اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا۔

اس بل میں شیعہ اراکین نے عراق میں داخلی خود مختاری کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو اس سے عراق کے 18 صوبوں کے رہنماﺅں کو اس بات کی اجازت مل جائے گی کہ وہ اپنے قریب کے علاقوں کو ساتھ ملا کر ایک وسیع تر خطے میں خود مختار حکومت کے قیام کے مسئلے پر ریفرنڈم کر ا سکیں۔

یہ نظام دراصل کرد صوبوں میں ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے رائج داخلی خود مختاری کے نظام کی مانند ہو گا جس کے بعد شیعہ آبادی کو جنوب کے صوبوں میں تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

بہت سے شیعہ اور کر د رہنما صوبائی خودمختاری پر مبنی وفاقی طرز حکومت کو اپنے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جبکہ اہل سنت کے لئے یہ چیز قابل قبول نہیں ہے کہ تیل کے ذخائر والے علاقے شیعوں اور کرد وں کو مل جائیں اور ان کے پاس صرف خشک اور بنجر زمین رہ جائے۔

ادھر عراق میں سنی قبیلوں کے سرداروں نے وزیر اعظم نوری المالکی سے ملاقات میں انہیں دہشت گردی کے خلاف تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ صوبہ انبار کے سنی شیخ Sattar al-Buzayi نے کہ جن کو اسامہ بن لادن کے افراد کے خلاف قبائلی اتحاد کا لیڈر سمجھا جاتا ہے، کہا کہ وہ اور دیگر 15 سنی رہنماﺅں نے وزیراعظم کو مزاحمت کاروں کے خلاف جد وجہد میں تعاون کرنے کی پیشکش کی ہے۔

۔دریں اثنا آج ترکی کے وزیر اعظم طیب ایردعان نے عراقی صدر جلال طالبانی کے گزشتہ روز کے بیان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے ترکی کے بارے میں اپنے نازیبا الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جلال طالبانی کے الفاظ ان کے مقام کے شایان شان نہیں ہیں۔ جلال طالبانی نے گزشتہ روز ترکی ، ایران اور شام پر عراق کے داخلی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا تھا۔ ترکی کے وزیر اعظم نے کہا کہ عراق کے ہمسایوں کے ساتھ اس قسم کا رویہ عراق کے مستقبل کے لئے اچھا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ہم ایک یا دو سال سے ایک دوسرے کے ہمسایہ نہیں ہیں بلکہ ہم صدیوں سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور اسی طرح رہتے رہیں گے۔عراق کے صدر جلال طالبانی کا گزشتہ روز کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکی، عراق اور امریکہ پر ، عراق میں موجود علیحدگی پسند کرد عسکریت پسندوں کی تحریک کو کچلنے کے لئے شدید دباﺅ ڈال رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ترکی کی طرف سے عراقی صدر کے بیان پر نہایت سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ترکی کا کہنا ہے کہ کرد پارٹی PKK کہ جسے اس نے دہشت گردگروپوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے، شمالی عراق کو اپنے افراد کی عسکری تربیت کے لئے استعمال کر رہی ہے اور وہاں سے اسے نہایت آسانی کے ساتھ اسلحہ او ر دھماکہ خیز مواد مل جاتا ہے۔