1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں متعدد بم دھماکے: کم از کم 66 افراد ہلاک

عراق کے مختلف شہروں میں ہونے والے پر تشدد واقعات میں کم از کم 66 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ عراق کے وسطی شہر الکُوت میں ہونے والے دو بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 37 افراد ہلاک جبکہ ساٹھ سے زائد زخمی ہیں۔

default

عراق کے وسطی شہر الکوت میں پیر کی صبح ہونے والے دو دھماکوں سے انتہائی افراتفری کی صورت حال پیدا ہو گئی۔ دونوں دھماکے صبح آٹھ بجے کے قریب ہوئے۔ شہر کے الزہرا ہسپتال کے ڈاکٹر علی حسین کے مطابق دھماکوں کے بعد کم از کم 34 لاشیں ان کے ہسپتال پہنچائی جا چکی ہیں اور ساٹھ سے زائد زخمیوں کو داخل کیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر علی حسین کے مطابق ہلاک شدگان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی پولیس نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پندرہ بتائی ہے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کو عراقی سکیورٹی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد تیس اور زخمیوں کی چالیس بتائی ہے۔

الکوت شہر میں ہونے والے دو دھماکوں میں سے ایک کار بم تھا اور دوسرا سڑک کنارے رکھا گیا ایک بم تھا جسے حکام کے مطابق ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔ یہ بم دھماکے شہر کے قلب میں انتہائی بھیڑ والے علاقے میں ہوئے۔ الکوت کے علاوہ عراق کے طول و عرض میں کئی مقامات پر ہونے والے بم دھماکوں سے ملک کی مخدوش صورت حال سامنے آئی ہے۔

Irak Kirkuk Attentat Anschlag Autobombe Flash-Galerie

کرکوک شہر کے بم دھماکے کے بعد تباہ شدہ علاقہ

دوسری جانب شورش زدہ صوبے دیالہ میں بلدیہ کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس میں آٹھ افراد ہلاک، جبکہ چودہ زخمی ہیں۔ مرکزی شہر تکریت میں ایک سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس میں تین سرکاری اہلکار مارے گئے۔ اسی طرح کربلا، نجف اور رمادی میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

الکوت شہر میں ہونے والے دھماکوں سے دو ہفتے قبل عراقی قیادت نےامریکہ کے ساتھ سکیورٹی تربیت کے عراق متعین مشن کی مدت میں توسیع کرنے کی بات چیت کا عندیہ دیا تھا۔ رواں برس عراق میں موجود سینتالیس ہزار امریکی فوجیوں کے مکمل انخلاء کا معاہدہ پورا ہونے والا ہے۔

الکوت کا شہر دریائے دجلہ کے کنارے پر آباد ہے۔ یہ دارالحکومت بغداد سے جنوب کی سمت پر تقریباً 166کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ شہر عموماﹰ کوت الامارہ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساڈں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس