1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عراق میں لاکھوں بارودی سرنگیں روشن مستقبل کی راہ میں رکاوٹ

عرب ریاست عراق طویل مسلح تنازعے کے منفی اثرات سے باہر نکلنے کی کوشش میں ہے تاہم دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں پھیلی ہوئی قریب ڈھائی کروڑ بارودی سرنگیں بھی اس کے روشن مستقبل کی راہ میں حائل ہیں۔

default

اس سلسلے میں تیل کی دولت سے مالا مال جنوبی ریگستانی علاقہ بالخصوص متاثر ہے۔ تاریخی اہمیت کے حامل شہر بصرہ کی ترقی میں بھی یہی بارودی سرنگیں اور لاکھوں دیگر نہ پھٹ سکنے والا وہ گولہ بارود رکاوٹ بن کر ابھر رہا ہے جو صدام دور یا اس کے بعد کی شورش کے بعد یہاں گرایا گیا تھا۔

بصرہ کی شہری انتظامیہ میں سلامتی سے متعلقہ امور کی کمیٹی کے سربراہ علی المالکی کے بقول بارودی سرنگیں اور غیر استعمال شدہ جنگی مواد خاموش دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول انہی کے سبب مکانات، تجارتی مراکز اور پُلوں کی تعمیر کا کام سست رفتاری کا شکار ہے۔

Minen im Irak

عراق میں بارودی سرنگ کا نشانہ بنا ہوا ایک شہری معروف حکمت

اسی طرح بصرہ کے اطراف میں رومائلا کے علاقے میں آئل فیلڈ سے پیداوار کا حصول بھی مشکل بنا ہوا ہے۔ یہاں جگہ جگہ رکھی ہوئی سرخ اور سفید رنگ والے ریت کے تھیلے موت اور زندگی کی علامت ہیں۔ سرخ تھیلے ان علاقوں کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں بارودی سرنگ کی موجودگی کا خطرہ ہے جبکہ سفید تھیلے بارودی سرنگوں سے پاک علاقے کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں حال ہی میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے چھ کارکن اپنی جان گنوا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق عراق میں 1991ء تا 2007ء کے عرصے میں بارودی سرنگوں کی وجہ سے قریب 14 ہزار شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ عراقی وزارت ماحولیات کے مطابق 1980ء تا 1988ء کے دوران لڑی گئی خلیج جنگ کے زمانے کی بہت سے بارودی سرنگیں ایران سے ملحقہ سرحدی علاقے میں بکھری ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق عراق بھر میں قریب دو کروڑ بارودی سرنگیں اور پانچ کروڑ غیر استعمال شدہ کلسٹر بم موجود ہیں۔

عراقی حکومت اب ملک میں موجود تیل کے وسیع تر ذخائر سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ حکومت نے 2017ء تک روزانہ کی بنیاد پر 12 ملین بیرل تیل کی پیداوار کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ یہ مقدار تیل کی پیداوار کی مناسبت سے سرفہرست ملک سعودی عرب کے ہم پلہ ہے۔ عراق میں تیل کی موجودہ یومیہ پیداوار قریب 3 ملین بیرل ہے۔ آئل فیلڈز والے ریگستانی علاقوں میں بہت سی بارودی سرنگیں ریت تلے کافی گہرائی میں دبی ہوئی ہیں، جس کے باعث ان کی نشاندہی اور صفائی زیادہ دشوار ہے۔

Bildgalerie Iran Irak Krieg 1980 bis 1988

عراق اور ایران کی جنگ کا ایک منظر، فائل فوٹو

عراق میں توانائی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں نے بڑی بڑی رقوم دے کر بارودی سرنگیں صاف کرنے والے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ برطانوی کمپنی برٹش پیٹرولیم کے لیے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے نواف عبد اللہ نے بتایا کہ ان کی ٹیم رومائلا میں 45 مربع کلومیٹر کے علاقے سے قریب نو ہزار بارودی سرنگیں اور دیگر بارودی مواد صاف کرچکی ہے۔

برٹش پیٹرولیم جیسی دیگر تیل نکالنے والی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی رُو سے عراقی حکومت اس بات کی پابند ہے کہ بارودی سرنگیں صاف کرنے کے تمام اخراجات ان کمپنیوں کو واپس ادا کرے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: افسر اعوان

DW.COM