1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں فرقہ وارانہ تنازعہ بڑھ گیا ہے: طارق الہاشمی

عراق کے مفرور نائب صدر طارق الہاشمی نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کی حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے عراق فرقہ وارنہ تشدد کی دہلیز پر پہنچ گیا ہے۔

عراق کے سُنی نائب صدر طارق الہاشمی دہشت گردی کے الزام میں حکومت کو مطلوب ہیں اور ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں۔ وہ ان دنوں عراق کے نیم خود مختار علاقے کردستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ بغداد سے فرار ہونے کے بعد کردستان کے مرکزی شہر اربیل میں انہوں نے میڈیا پر واضح کیا تھا کہ ان پر المالکی حکومت کے الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں اور وہ بے گناہ ہیں۔

امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے طارق الہاشمی سے خصوصی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو میں الہاشمی کا کہنا تھا کہ شیعہ وزیر اعظم نوری المالکی عراق کے سُنیوں کے خلاف جان بوجھ کر مہم شروع کیے ہوئے ہیں اور ان کا یہ عمل عراق کو فرقہ وارانہ نفرت کی آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے۔ الہاشمی کے خیال میں عراق میں موجودہ صورت حال ایک بڑی خونی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

Irak Vizepräsident Al-Haschimi

طارق الہاشمی کردستان میں موجود ہیں

مفرور نائب صدر اس وقت عراقی صدر جلال طالبانی کے ذاتی مہمان خانے میں مقیم ہیں۔ یہ مہمان خانہ کردستان کے پہاڑی علاقے میں موجود ہے اور اس کی کھڑکیوں سے شمالی کرد شہر سلیمانیہ دکھائی دیتا ہے۔ سلیمانیہ کا شہر بغداد سے 260 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔

عراق کے سُنی نائب صدر نے بغداد واپس جانے سے انکار کردیا ہے۔ ان کو یقین ہے کہ بغداد میں المالکی حکومت ان کو گرفتار کر کے ایک غیر شفاف عدالتی عمل کے ذریعے سزا سنا کر جیل میں پابند کر سکتی ہے۔ طارق الہاشمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگلے وقتوں میں عراق کی دوسری آبادیوں کو بھی المالکی کے جبر کا سامنا ہو گا لیکن اس وقت ان کا ٹارگٹ سُنی ہیں۔ نائب صدر کے مطابق سُنی آبادی کو اس لیے بھی ہدف بنایا جا رہا ہے کہ وہ الہاشمی کی کمیونٹی ہیں۔

Irak Vizepräsident Tarek el Haschemi

طارق الہاشمی نے بغداد واپس لوٹنے کو خارج از امکان ققرار دیا ہے

مفرور نائب صدر کا تعلق عراقی پارلیمان کے مضبوط سُنی بلاک العراقیہ سے ہے۔ العراقیہ وزیر اعظم نوری المالکی کے شیعہ اتحاد کے ساتھ مختلف معاملات پر سینگ پھنسائے ہوئے ہے۔ سُنی سیاستدانوں کا خیال ہے کہ نوری المالکی مسلسل طاقت اپنے منصب کے تحت لانے کی کوشش میں ہیں۔ سُنی نائب وزیر اعظم صالح المطلق کے خلاف وزیر اعظم پارلیمنٹ میں عدم اعتماد لانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ صالح المطلق نے نوری المالکی کو ڈکٹیٹر کہا تھا۔ جمعے کے روز سُنیوں نے وزیر اعظم کے خلاف اورالہاشمی کی حمایت میں بغداد کے شمال میں واقع سمارہ شہر میں جلوس نکالا۔ اس جلوس میں شرکاء نے الہاشمی کے خلاف لگائے گئے الزامات کو واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

طارق الہاشمی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد سارے عراق میں خوف و ہراس کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ان وارنٹ کے اجراء کے ایک دن بعد عراقی دارالحکومت بغداد میں سلسلہ وار بم دھماکوں میں کم از کم 69 افراد کی ہلاکت اور بے شمار زخمی ہوئے تھے۔ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ عراق کی سلامتی کی صورتحال اگلے دنوں میں انتہائی مخدوش ہو جائے گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت:  حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس