1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں شراب کی تیاری، فروخت اور درآمد پر مکمل پابندی

عراقی پارلیمان نے اچانک ہونے والی ایک رائے شماری میں ارکان کی اکثریت کی حمایت سے ملک میں شراب کی تیاری، فروخت اور درآمد پر مکمل پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ پابندی کے حامیوں کے مطابق یہ منظوری ملکی آئین کے عین مطابق ہے۔

Irak neues Parlament 01.07.2014 (Ahmad Al-Rubaye/AFP/Getty Images)

بغداد میں عراقی پارلیمان

بغداد سے اتوار تئیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق عراقی پارلیمان نے یہ فیصلہ ہفتہ بائیس اکتوبر کی رات کو کیا۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ یہ اچانک پارلیمانی فیصلہ ایک طرف اگر ملک میں مذہبی اور نسلی اقلیتی گروپوں کو ناراض کر دے گا تو دوسری طرف یہی منظوری عراق میں بااثر مسلم مذہبی سیاسی جماعتوں کے لیے خوشی کا باعث بنے گی۔

مشرق وسطیٰ کی اس عرب ریاست میں شراب کی تیاری سے لے کر اس کی فروخت اور درآمد تک پر مکمل پابندی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملکی قانون ساز ادارے کا یہ فیصلہ ریاستی آئین سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے کیونکہ عراقی آئین کے تحت کوئی بھی ایسی قانون سازی نہیں کی جا سکتی جو اسلامی احکامات سے متصادم ہو۔

دوسری طرف اس پابندی کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ یہ منظوری دراصل خود عراقی آئین سے متصادم ہے، جو یہ ضمانت دیتا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کو اپنے رسم و رواج پر عمل پیرا رہنے کی اجازت ہو گی۔ یہ ناقدین اپنے موقف کی حمایت میں یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ شراب اسلام میں تو منع ہے لیکن دوسرے مذاہب میں نہیں، اس لیے اس پابندی کا اطلاق عراقی غیر مسلم شہریوں پر نہیں ہونا چاہیے۔

اس رائے شماری کے بعد بغداد میں ملکی پارلیمان کے ایک اہلکار اور ایک منتخب رکن نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس پابندی کو عین آخری وقت پر ملکی بلدیاتی علاقوں اور اداروں سے متعلق اس مسودہ قانون میں شامل کیا گیا، جو کل ہفتے کی رات منظور کر لیا گیا۔

Flaschen Bacardi und Wodka (Getty Images)

عراق میں ریستوراں کھلے عام مہمانوں کو شراب پیش تو نہیں کرتے لیکن وہاں کافی شراب نوشی کی جاتی ہے

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ عراق میں شراب پر ممکنہ پابندی کے مخالفین کو یہ امید ہی نہیں تھی کہ بلدیاتی اداروں سے متعلق قانون سازی سے کچھ ہی دیر پہلے اس پابندی سے متعلق شقوں کو بھی مجوزہ قانونی مسودے میں شامل کر لیا جائے گا۔ اسی لیے اس مسودے کی منظوری سے قبل اس شق پر کھل کر کوئی بحث بھی نہ ہو سکی۔

اس منظوری کے بعد طویل عرصے سے عراقی پارلیمان کے رکن چلے آ رہے ایک مسیحی سیاستدان یونادم  کنّا نے کہا، ’’پارلیمان کی طرف سے منظور کیے گئے قانونی مسودے کی شق نمبر 14 کے مطابق ملک میں ہر قسم کی شراب کی تیاری، فروخت اور درآمد ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔‘‘

یونادم کنّا نے بتایا، ’’اس قانون کی خلاف ورزی کرنے پر کسی بھی فرد کو 10 ملین سے لے کر 25 ملین دینار (8000 سے لے کر 20000 امریکی ڈالر) تک کا جرمانہ کیا جا سکے گا۔‘‘ کنّا نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اس متنازعہ قانون سازی کو ملک کی وفاقی عدالت میں چیلنج کریں گے۔

اے ایف پی کے مطابق عراقی ہوٹلوں اور ریستورانوں میں مہمانوں کو شراب پیش کرنے کی روایت کم از کم کھلے عام تو دیکھنے میں نہیں آتی تاہم عراق میں کافی زیادہ شراب نوشی کی جاتی ہے اور ملک میں بیئر اور متعدد دیگر قسموں کی شراب سازی کی فیکٹریاں بھی کام کر رہی ہیں۔

DW.COM