1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں سرکاری دفاتر پر حملہ، 50 سے زائد افراد ہلاک

عراق کے شہر تکریت میں سرکاری دفاتر پر حملے میں ایک صحافی سمیت کم از کم 53 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مسلح حملہ آوروں نے عمارت میں گھس کر درجنوں افراد کو یرغمال بنایا، جس کے بعد ہلاکتیں ہوئیں۔

default

عراقی سکیورٹی فورسز نے شمالی شہر تکریت میں بلدیاتی دفاتر پر حملہ آوروں کے قبضے کے بعد گھنٹوں اس کا محاصرہ کیے رکھا، جس کے بعد عراقی فورسز عمارت میں داخل ہوسکیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بلدیاتی حکومت کے متعدد ارکان جبکہ ایک صحافی بھی شامل ہے۔ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

وہاں ہلاک ہونے والے صحافی کی تصدیق تیس سالہ صبا البازی کے طور پر ہوئی ہے، جو روئٹرز کے لیے فری لانسر تھے۔ روئٹرز کا کہنا ہے کہ صباالبازی ان کے لیے 2004ء سے کام کرتے رہے ہیں۔ وہ ذرائع ابلاغ کے بعض دیگر اداروں سے بھی وابستہ تھے اور کیمرہ مین کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دے رہے تھے۔

روئٹرز کے ایڈیٹراِن چیف اسٹیفن ایڈلر نے تعزیتی پیغام میں کہا ہے، ’تھامسن روئٹرز کی پوری ٹیم کی طرف سے، میں صباالبازی کی ناگہانی موت پر دکھ کا اظہار کرتا ہوں۔‘

تکریت عراق کے سابق صدر صدام حسین کا آبائی شہر ہے اور اسے سنی انتہاپسندوں کے گڑھ کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور فوجیوں کے یونیفارم پہنے ہوئے تھے۔ صوبائی کونسل کے دفاتر میں ان کے داخلے سے پہلے عمارت کے باہر ایک خودکش دھماکہ ہوا۔ جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے بہت دیر تک عمارت کو گھیرے میں لیے رکھا۔

Karte Irak Bagdad und Falludscha Englisch

حملہ آوروں نے درجنوں افراد کو گھنٹوں یرغمال بنائے رکھا

مقامی حکومت کے ترجمان محمد الآسی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی پیش قدمی پر حملہ آوروں نے یرغمالیوں کو قتل کرنا شروع کیا۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ہلاک ہونے والوں میں کتنے یرغمالی اور کتنے حملہ آور ہیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے ایک حکومتی عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ جس وقت حملہ آوروں نے اس عمارت پر دھاوا بولا اس وقت کونسل کے اجلاس کی وجہ سے دفاتر میں کافی رش تھا ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حملہ آوروں کے عمارت میں گھسنے پر بعض افراد وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب بھی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تکریت میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس