1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں ساڑھے 6 لاکھ شہری ہلاک

امریکی اور عراقی ماہرین کے مرتب کردہ ایک تحقیقی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ عراق میں 2003ء کے امریکی حملے کے بعد سے اب تک چَھ لاکھ 55 ہزارعراقی شہری مارے جا چکے ہیں۔ تاہم امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش، امریکی محکمہء دفاع اور آسٹریلوی وزیر اعظم نے اِن اعداد و شمار کو ناقابلِ اعتبار قرار دیا ہے۔ اسی دوران عراق میں پُر تشدد واقعات پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔

default

یہ تحقیقی جائزہ امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور کی جونز ہَوپ کِن یونیورسٹی کے ڈاکٹروں نے صحت کے شعبے کے عراقی ماہرین کی مدد سے تیار کیا ہے۔ اِس جائزے کے نتائج بدھ 11 اکتوبر کو برطانیہ کے معتبر طبی جریدے The Lancet کی وَیب سائیٹ پر جاری کئے گئے۔

جہاں اب تک عراق میں شہری ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے بُش حکومت کے اندازے 30 ہزار اور برطانوی ماہرین کے 50 ہزار تھے، وہاں اِس نئے جائزے میں سن 2003ء کے بعد سے مختلف پر تشدد واقعات میں مرنے والے عراقی شہریوں کی تعداد چھ لاکھ 55 ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔

جائزے کے مطابق تقریباً 50 ہزار عراقی شہری تو صرف جنگ جیسے حالات کی وجہ سے ملک میں حفظانِ صحت کی خراب سہولتوں کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے۔ مزید یہ کہ روزانہ تقریباً 500 افراد پر تشدد واقعات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور جنگ کے آغاز کے بعد سے مرنے والوں کی اوسط شرح میں چار گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

اِس جائزے نے عام امریکی عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، یہاں تک کہ امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش کو بھی اِس سلسلے میں ایک بیان جاری کرنا پڑا۔ اِس بیان میں بُش نے اِس تحقیقی جائزے کے نتائج کو رد کرتے ہوئے مرنے والے عراقی شہریوں کی نئی تعداد یعنی چَھ لاکھ 55 ہزار کو ناقابلِ اعتبار قرار دیا۔

بش نے مزید کہا کہ پر تشدد واقعات پر قابو پانے کے لئے کسی نئی حکمتِ عملی پر تو غور کیا جا سکتا ہے لیکن عراق سے امریکی دَستوں کی قبل از وقت واپسی خارج از امکان ہے۔

بُش نے اعتراف کیا کہ عراق ایک مشکل دور سے گذر رہا ہے۔ اُنہوں نے دہشت پسندوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن موجودہ جمہوری عراقی حکومت کو تباہ کرنے اور امریکیوں کو عرب دُنیا سے نکال باہر کرنے کے لئے تمام ممکنہ وسائل سے کام لے رہے ہیں۔

بش نے کہا کہ عراقیوں کو اپنی تازہ تازہ جمہوری حکومت کی حفاظت کرنے کے قابل بنانے سے پہلے ہی عراق سے نکل جانے کا مطلب یہ ہو گا کہ دہشت گرد عراق کا کنٹرول سنبھال لیں گے اور یہ ملک ایک ایسی نئی محفوظ جنت بن جائے گا، جہاں سے امریکہ کے خلاف نئے حملے کئے جائیں گے۔

امریکی فوج کے ایک سابق کرنل Jeffrey McCausland نے ٹی وی چینل CNN سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحقیقی جائزہ امریکہ سے یہ فوری تقاضا کرتا ہے کہ وہ عراق میں ہونے والی ہلاکتوں کو بند کروائے۔

McCausland نے کہا کہ اگر امریکی فوجی مختلف فرقوں کے درمیان جاری تشدد کو بند کروانے میں کامیاب نہ ہوئے تو عراق میں کھلی خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔

امریکہ میں کچھ حلقوں کی طرف سے کی جانے والی تنقید میں کہا جا رہا ہے کہ کانگریس کے انتخابات سے کچھ ہی پہلے اِس جائزے کو منظرِ عام پر لانے کا مطلب بش حکومت کے خلاف عوامی جذبات کو ہوا دینا ہے۔

امریکی صدر کی طرح، امریکی محکمہء دفاع اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم John Howard نے بھی عراق میں اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کو ناقابلِ یقین قرار دیتے ہوئے اس تحقیقی جائزے کو رد کر دیا ہے۔

تاہم جونز ہوپ کِن یونیورسٹی میں اِس جائزے کے مرتبین میں سے ایک پروفیسر ڈاکٹر Gilbert Burnham نے زور دے کر کہا ہے کہ اُن کے اخذ کردہ نتائج 95 فیصد تک درست ہیں۔

اسی دوران عراق میں پرتشدد واقعات پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔ جمعرات 12 اکتوبر کو مسلح افراد نے بغداد میں ایک نئے عراقی سیٹیلائٹ ٹی وی چینل کے دفاتر پر دھاوا بول دیا اور اُس کے گیارہ ملازمین کو ہلاک کر دیا۔ مجموعی طور پر عراق میں جمعرات کی شام تک کم از کم تیس افراد مارے گئے۔