1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں دو کار بم دھماکے، کم ازکم 33 ہلاک

عراق میں دو مختلف کار بم دھماکوں کے نتیجے میں کم ازکم 33 افراد ہلاک جبکہ پچاس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکے بغداد کے ایک مصروف علاقے میں واقع ایک سرکاری بینک کےقریب ہوئے۔

default

دھماکوں کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ تین منزلہ ٹریڈ بینک آف عراق کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ دھماکے دن کے وقت ہوئے، جب اس جگہ لوگوں کا کافی رش تھا۔

عراقی حکام کے مطابق یہ خود کش حملے تھے۔ اس سے قبل کہا جا رہا تھا کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری دو کاریں بینک کی عمارت کے نزدیک ہی پارک کی گئی تھیں۔

Neue Anschläge im Irak

ابھی حال ہی میں بغداد میں مرکزی بینک پر خوں ریز حملہ کیا گیا

عراقی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے بینک کو تباہ کرنے کی کوشش کی، جو ناکام ہو گئی۔ اس دھماکے کی وجہ سے آس پاس کی عمارتوں کے علاوہ کئی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

بم ڈسپوزل ٹیم کے مطابق بغداد کے مصروف ترین علاقے منصورہ میں ہوئے یہ دونوں ہی ’کارخود کش حملے‘ تھے، جن میں حملہ آوروں نے ایک بینک کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق دونوں گاڑیوں میں لگ بھگ اسَی اسَی کلو گرام دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا۔

ہلاک شدگان میں بینک کے پانچ سیکیورٹی گارڈز شامل ہیں جبکہ چھ اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ عراقی حکام نے ان حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا ہے کہ انتہا پسند عناصرعراق کی اقتصادی ترقی کو پنپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔

خیال رہےکہ گزشتہ سال سے ہی عراق میں اہم سرکاری عمارتوں پر ہدف بنا کر حملے کئے جا رہے ہیں۔ سن 2009ء کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران ایسے ہی دہشت گردانہ حملوں میں خزانہ، خارجہ اورانصاف کے محکموں کےعلاوہ بغداد کی صوبائی اسمبلی کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

anschlag finanzministerium irak

اگست سن 2009 میں بغداد میں واقع محکمہ خزانہ کی عمارت پر حملہ کیا گیا تھا

امریکہ اورعراق کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرعراق میں مخلوط حکومت سازی کے لئے جاری مذاکرات میں مزید تاخیر ہوتی ہے تو اس قسم کے حملوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ عراق میں پارلیمانی انتخابات کے ساڑھے تین ماہ بعد بھی یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکا کہ نیا وزیراعظم کس سیاسی جماعت کا ہوگا۔ ان انتخابات میں موجودہ وزیر اعظم نوری المالکی اورسابق وزیراعظم ایاد علاوی کے حامی اتحاد سرفہرست رہے تھے تاہم دونوں تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں۔علاوی اورالمالکی دونوں ہی وزیراعظم بننے کے خواہش مند ہیں، اسی لئے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔

Bagdhad Autobombe Anschlag Terror Flash-Galerie

بغداد میں واقع محکمہ انصاف کی عمارت کو اکتوبر سن 2009ء میں نشانہ بنایا گیاتھا

اتوار کے دن ہوئے ان حملوں سے ایک ہفتہ قبل ہی عراق کے مرکزی بینک کو بھی ایک مسلح دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعہ میں چار گھنٹوں کی جھڑپوں کے نتیجے میں کم ازکم اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق مئی کے دوران مختلف تشدد آمیز واقعات کے نتیجے میں کم ازکم 337 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM