1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراق میں خودکش حملہ، 30 ہلاک

عراقی حکام کے مطابق صوبے دیالہ میں ہونے والے ایک خودکش بم حملے میں کم از کم 30افراد ہلاک جبکہ 67 زخمی ہوگئے ہیں۔

default

پولیس حکام کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری بیلٹ پہنے خودکش حملہ آور نے خود کو بعقوبہ کی ایک معروف کافی شاپ میں دھماکہ سے اڑا لیا۔ دھماکے کے وقت وہاں کافی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ دارالحکومت بغداد سے قریب 60 کلومیٹرشمال میں واقع بعقوبہ میں یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق جمعے کی رات نوبجے کے قریب کیا گیا۔

Crvenkovski Irak_3.jpg

رواں برس اگست کے آخر میں امریکی افواج نے عراق میں اپنے تمام تر جنگی آپریشن بند کر دئے ہیں

حملے کا شکار بننے والا کافی شاپ، بعقوبہ شہر کے ضلع بالادروز میں واقع ہے، جہاں زیادہ تر شیعہ کُرد آبادی ہے۔ پولیس کے مطابق اس دھماکے کے بعد بالادروز میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ بعقوبہ صوبہ دیالہ کا دارالحکومت ہے اور یہ القاعدہ کا ایک مضبوط گڑھ رہا ہے۔ سکیورٹی کے حوالے سے ابھی بھی صوبہ دیالہ ملک کے غیرمستحکم ترین صوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس دھماکے کے ایک عینی شاہد 41 سالہ صادق عباس کے مطابق وہ اس کیفے کے نزدیک ہی تھا، جب بہت شدید دھماکہ ہوا اور ہرطرف افرا تفری پھیل گئی۔ عباس کے مطابق اس دھماکے کے بعد لوگوں کے ہجوم کو کیفے تک جانے سے روکنے کے لئے سکیورٹی فورسز نے ہوائی فائرنگ شروع کردی۔

Bagdad Anschlag

عراق میں دہشت گردی کے واقعات وقفے وقفے سے جاری ہیں

عراقی سول ڈیفنس فورس کے ایک ترجمان کرنل کادھم بشیر صالح کے مطابق چائے، شیشہ اور سگریٹ نوشی کے لئے معروف یہ کیفے مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔

یہ دھماکہ ستمبر کے بعد سے عراق میں ہونے والا بدترین خودکش حملہ تھا۔ تاہم اگست میں عراق میں امریکی افواج کے جنگی آپریشن کے اختتام کے بعد سے چھوٹے موٹے حملوں اور دھماکوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس وقت عراق میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد بھی 50 ہزار سے کم ہے، جو کہ سال 2003ء میں شروع ہونے والی عراق جنگ کے بعد سے اب تک کی کم ترین تعداد ہے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس