1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عراق میں خودکش حملہ آور خواتین کی تعداد میں اضافہ

سال رواں کے آغاز سے اب تک کم از کم تیس عورتوں نے خود کش حملے کیے۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔

default

خواتین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تعلیم کی کمی، غربت اور بدلہ لینے کا جذبہ ان حملوں کا محرک ہے۔ چند ہفتے قبل عراق میں ایک پندرہ سالہ لڑکی پکڑی گئی، جو مبینہ طور پر خود کش حملہ کرنے والی تھی۔ عراقی حکومت اس کیس کو القائدہ کے خلافذرائع ابلاغ میں لڑی جانے والی جنگ میں ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

پندرہ سالہ لڑکی کا نام رانیہ ابرا ہیم ہے۔ ملک بھر کے ٹیلی ویژن چینلز پر دکھائی جانے والی یہ لڑکی یوں نظر آتی ہے جیسے حکومت کے ہاتھ انتہائی قیمتی خزانہ لگ گیا ہو۔ عراق کی سیکیوریٹی فورسز اور امریکی افواج کے لئے یہ ایک اہم ترین گرفتاری ہے۔

اس پندرہ سالہ لڑکی نے اپنے لمبے لباس کے نیچے دھماکہ خیز بیلٹ باندھ رکھی تھی اور وہ بغداد کے قریب Bakuba میں گھوم رہی تھی کہ شہری دفاع کے ایک رکن کی اس پر نظر پڑی۔ وہ تھوڑا مشکوک ہو گیا اور اس لڑکی کی تلاشی لی گئی ۔ یوں وہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی۔

تا ہم اس سارے واقعے کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہے۔ عراقی ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والے ایک بیان میں رانیہ کہتی ہے:’’میرا باپ اور بھائی غائب ہو چکے تھے۔ بعد ازاں ایک کی نعش گھر سے ملی اور ایک کی دریائے دجلہ سے۔ میرا شوہر مجھے اپنے عزیزوں کے ہاں لے گیا۔ جنہوں نے مجھے پینے کے لیے جوس دیا۔ اسے پیتے ہی مجھے چکر آنے لگے۔ اگلے روز صبح کے وقت ایک بوڑھی عورت نے میری کمر کے ساتھ دھماکہ خیز بیلٹ باندھ دیا۔ میں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے مجھے تسلی دی کہ تمھیں کچھ نہیں کرنا ہوگا۔ تم نے صرف ایک نزدیکی بازار تک جانا ہے۔ وہاں تمھیں اپنے عزیزو اقارب پھر سے مل جائیں گے۔ یہ سب لوگ چونکہ میرے سے عمر میں بڑے تھے اس لیے مجھے ان کی باتوں پر یقین آگیا۔ آخر میں مجھے یہ بھی کہا گیا کہ تمھیں جنت ملے گی۔ پھول، شہد کی نہریں‘‘

لیکن رانیہ ابراہیم نہ تو جنت پہنچی اور نہ ہی بازار میں اسے اس کے عزیز و اقارب ملے۔ اس کی کمر سے بندھی بیس کلو گرام وزنی دھماکہ خیز بیلٹ اگر پھٹ جاتی تو پچاس میٹر داہرے میں کوئی زندہ نہ بچتا۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اسے کسی نے نہیں بتایا کہ اس بیلٹ کو کیسے اڑانا ہے۔ یعنی دھماکہ کیسے کرنا ہے۔ غالبا. یہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا جانا تھا؟

بہر حال یہ امر واضح نہیں کہ رانیہ کی کہانی سچی ہے یا حکومتی اداروں کی گڑہی ہوئی ہے؟ یا پھر حکومتی اداروں کی گڑھی گئی کہانی؟ کیونکہ اس لڑکی کی گرفتاری کے بعد اسے کافی دنوں تک پولیس حراست میں رکھا گیا اور پھر صحافیوں کے سامنے پیش کیا گیا۔

رانیہ نے گیارہ سال کی عمر میں سکول جانا چھوڑ دیا تھا اور چودہ سال کی عمر مسں گھریلو تنگ دستی کے باعث اس کی ماں نے اس کی شادی کر دی تھی۔ عراقی حکام کے مطابق اس کا شوہر چالیس قتل کیسز میں مطلوب ہے۔

عراق میں رواں سال تیس سے زائد عورتیں خود کو دھماکے میں اڑا چکی ہیں۔ ایک فلاحی تنظیم ’ندائے مستقبل‘ کی سر براہ عالیہ اسماعیل کا کہنا ہے۔ ’’ہمارے ہاں بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان کا کوئی سہارا نہیں۔ ان کے پاس کوئی کام نہیں اور نہ ہی کوئی ان کی مدد کرتاہے۔ تا ہم اس بات کا کوئی جوار نہیں ہے کہ رانیہ اور اس جیسی دیگر عورتیں خودبخود خود کش حملہ آور بن جاتی ہیں اور بے قصور لوگوں کو ہلاک کرتی ہیں۔ ‘‘

سماجی علوم کی ماہر خاتون ENAS KAMELکا کہنا ہے۔’’بات یہ ہے کہ ان خواتن کے شوہر یا لواحقین قتل ہو چکے ہوتے ہیں اور یہ بدلہ لینا چاہتی ہیں۔ ان کے خیال میں ان کی زندگی بے مقصد ہو چکی ہوتی ہے۔ اس لیے وہ خود کش حملہ آور کا روپ دھار لیتی ہیں‘‘

دریں اثناء عراق میں تعینات امریکی فوج اور زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ وہ کالے لمبے چوغے میں کسی عورت کو اپنی طرف بڑہتے دیکھ کر راستہ بدل لیتے ہیں۔